بابا صدیقی کے قتل کیس کی تفتیش پر بیٹے ذیشان برہمی۔
ممبئی: بابا صدیقی کے بیٹے ذیشان نے قتل کیس کی تحقیقات کی رفتار پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یہ تحقیقات ممبئی پولیس کر رہی ہے۔ ذیشان نے پولیس کی نیت پر سوال اٹھائے ہیں۔ دراصل، منگل کے روز ذیشان صدیقی اس معاملے کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں جاننے کے لیے ڈی سی پی ممبئی کے دفتر پہنچے تھے۔ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ممبئی پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہیں۔
ڈی جی پی سے ملنے پہنچے تھے ذیشان
انہوں نے کہا، ’’آج ہم اپنے والد کے قتل کیس میں جو آر ٹی آئی داخل کی تھی، اس کے متعلق ممبئی پولیس کے ڈی جی پی سے ملنے آئے تھے۔ جب میں ممبئی پولیس افسر سے ملنے پہنچا تو وہ افسر، راج تلک روشن، خود ملاقات کے لیے موجود نہیں تھے، انہوں نے مجھے آدھے گھنٹے سے زیادہ باہر بیٹھا کر رکھا، جب میں نے انمول بشنوئی کے بارے میں پوچھا تو مجھے کہا گیا کہ اگر ہم آپ کو بتا دیں گے کہ ہم کیا کر رہے ہیں، تو انمول بشنوئی الرٹ ہو جائے گا، اس لئے ہم کس سمت میں جانچ کر رہے ہیں، یہ نہیں بتا سکتے۔‘‘
ممبئی پولیس کا رویہ ہمیں صحیح نہیں لگا: ذیشان
انہوں نے مزید کہا، ’’ممبئی پولیس کا رویہ ہمیں صحیح نہیں لگا۔ وہ کسے بچا رہی ہے، ہمیں یا بشنوئی گینگ کو؟ ہمارا یہ حال ہے تو عام لوگوں کے ساتھ وہ کیسا برتاؤ کرتے ہوں گے؟ ممبئی پولیس جس طرح کی بے بسی دکھا رہی ہے، وہ انہیں زیب نہیں دیتی۔ ممبئی پولیس اس قابل ہے، لیکن شاید وہ اس معاملے میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ ورنہ آج ہمارے سامنے کیس کا ماسٹر مائنڈ آ جاتا۔ اب ہمارے پاس کیا آپشنز ہیں، اس بارے میں وکیل سے بات کرنے کے بعد آپ کو بتائیں گے۔‘‘ اس دوران کیس کے وکیل پردیپ گھرت نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم عدالت سے رجوع کریں گے۔
پولیس نے اب تک 26 ملزمان کو کیا ہے گرفتار
اگست میں ممبئی پولیس نے بابا صدیقی قتل کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم کا نام امول گائیکواڑ بتایا جا رہا ہے۔ کرائم برانچ کے اینٹی ایکسٹورشن سیل نے اسے پونے سے گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اب تک 26 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
بابا صدیقی کو گزشتہ سال اکتوبر میں کیا گیا تھا قتل
آپ کو بتا دیں کہ این سی پی لیڈر بابا صدیقی کو گزشتہ سال 12 اکتوبر کو ممبئی کے باندرہ میں ان کے بیٹے کے دفتر کے باہر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ گرومل سنگھ، دھرم راج کشیپ اور شیوکمار گوتم نے بابا صدیقی کو گولی ماری تھی۔ موقع پر موجود لوگوں کی مدد سے پولیس نے گرمیل سنگھ اور دھرم راج کشیپ کو پکڑ لیا تھا، جبکہ شیوکمار گوتم فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ بعد میں اسے اتر پردیش کے بہرائچ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔
لارنس بشنوئی گینگ نے لی تھی قتل کی ذمہ داری
لارنس بشنوئی گینگ نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ گینگ کا کہنا ہے کہ بابا صدیقی کو اداکار سلمان خان کے ساتھ ان کی قریبی تعلقات کی وجہ سے قتل کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



