کانگریس کے رکن پارلمنٹ۔ ششی تھرور۔
ترواننت پورم: کیرالہ کے ملاپورم ضلع میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کے قافلے کو روکنے اور ان کی سیکورٹی ٹیم کے ایک رکن پر حملہ کرنے کے واقعہ میں پولیس نے سخت کارروائی کی ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کیرالہ کے وانڈور میں ڈاکٹر ششی تھرور کے قافلے کو کچھ شرپسند عناصر نے روکنے کی کوشش کی۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا اور دو افراد کو گرفتار کر لیا۔
ششی تھرور کا سوشل میڈیا پر بیان
اس سے قبل ششی تھرور نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ، ’’گزشتہ رات پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے، جس میں میرے سکیورٹی گارڈ پر حملہ ہوا، پر آپ سب کی جانب سے ملنے والے پیغامات اور فون کالز نے مجھے بہت جذباتی کر دیا ہے۔ وہ اب بالکل ٹھیک ہے اور میں مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ تمام دوستوں اور خیرخواہوں کا شکریہ۔ ہم نے بغیر کسی خوف کے اپنا پروگرام جاری رکھا اور طے شدہ مزید دو پروگرام بھی مکمل کیے۔‘‘
پل کے قریب پیش آیا واقعہ
پولیس کے مطابق یہ واقعہ وانڈور کے تھرووالی علاقہ میں چیلّی تھوڑے پل کے قریب جمعہ کی شام تقریباً 7:30 بجے پیش آیا۔ ششی تھرور اے پی انیل کمار کے انتخابی مہم پروگرام میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، اسی دوران ان کی گاڑی کو روک لیا گیا۔ واقعے کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے، جس میں سینئر کانگریس لیڈر اپنی گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ ان کے اردگرد کچھ لوگ جمع ہیں اور نعرے بازی کر رہے ہیں۔
پولیس نے درج کیا مقدمہ
ششی تھرور کے سکیورٹی اہلکار کی شکایت پر وانڈور پولیس نے مقدمہ درج کیا، مشتبہ افراد کو حراست میں لیا اور واقعے میں استعمال ہونے والی دو گاڑیاں بھی ضبط کر لیں۔ پولیس کے مطابق تھرور کے گن مین رتیش کے پی کی شکایت پر وانڈور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
