Bharat Express DD Free Dish

Assam: آسام حکومت بغیر کسی مقدمے کے ’’غیر قانونی تارکین وطن‘‘ کے ’’پُش بیک‘‘ کے لیے 1950 کے قانون کا کرے گی استعمال، ہیمنتا بسوا سرما نے کیا اعلان

آسام حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو واپس دھکیلنے کے لیے 1950 کے ایک غیر معروف قانون ’امیگرنٹس ایکسپلشن آرڈر‘ کو بنیاد بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

آسام کے وزیرِ اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما۔ (فائل فوٹو)

آسام حکومت غیر قانونی تارکین وطن کو واپس دھکیلنے کے لیے 1950 کے ایک غیر معروف قانون ’امیگرنٹس ایکسپلشن آرڈر‘ کو بنیاد بنانے کی طرف بڑھ رہی ہے، جو اس کے لیے ایسا راستہ کھول دے گا جو کہ روایتی نہیں ہے اور وہ بغیر عدالتی کارروائی کے لوگوں کو ملک سے باہر نکال سکے گی۔

وزیر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے ہفتے کے روز کہا کہ ’’غیر ملکیوں‘‘ کی شناخت کا عمل، جو شہریوں کے قومی رجسٹر سے متعلق معاملات کی وجہ سے سست پڑ گیا تھا، اب تیز رفتاری سے جاری رہے گا۔ انھوں نے مزید کہا ’’اس بار اگر کسی کی شناخت غیر ملکی کے طور پر کی جاتی ہے، تو ہمیں اس شخص کو پیچھے دھکیلنے کے لیے غیر ملکیوں کے ٹریبونل کے پاس نہیں جانا پڑے گا۔‘‘

ہمیں اب تک اس حکم کا علم نہیں، اب اس پر سنجیدگی سے کریں گے غور: سی ایم سرما

بسوا سرما نے کہا کہ شہریت قانون کی دفعہ 6A پر پہلے کی سماعت کے دوران، سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ’’آسام حکومت کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ غیر ملکیوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے عدلیہ سے رجوع کرے۔‘‘ سی ایم ہیمنتا نے کہا ’’ایک پرانا قانون ہے – امیگرنٹس ایکسپلشن آرڈر۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ قانون ابھی بھی نافذ ہے۔ اس قانون کے مطابق ڈی سی (ڈسٹرکٹ کمشنر) کو حکم جاری کرنے اور پش بیک کی اجازت دینے کا اختیار ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’’نہ جانے کس وجہ سے ہمارے وکلاء نے ہمیں اس حکم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہمیں اس کا علم تھا۔ یہ حال ہی میں ہمارے علم میں آیا ہے۔ اب ہم اس پر سنجیدگی سے بات کریں گے۔ اس دوران پش بیک کا عمل جاری رہے گا۔ حکومت پہلے ہی بہت سے لوگوں کو پیچھے دھکیل چکی ہے۔‘‘

اے آئی یو ڈی ایف نے کیا تشویش کا اظہار

دریں اثنا آسام حکومت کی اس پیش رفت نے اقلیتوں اور اقلیتی تنظیموں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اپوزیشن پارٹی آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (AIUDF) نے حال ہی میں ریاست کے گورنر لکشمن پرساد اچاریہ کو درخواست دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں ’’نام نہاد غیر قانونی غیر ملکیوں‘‘ کی شناخت اور ان کو پکڑنے کے بہانے ’’ہندوستانی مسلمانوں‘‘ کو ’’مسلسل ہراساں‘‘ کیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور محض غیر قانونی تارکین وطن ہونے کا شبہ ہونے پر بھی انھیں گرفتار کر لیا جا رہا ہے۔ پارٹی نے گورنر کو جمع کرائے گئے ایک میمورنڈم میں کہا تھا کہ یہ ’’کارروائیاں اکثر معتبر ثبوتوں، قانونی نوٹس، یا دستاویزات کی مناسب تصدیق کے بغیر کی جاتی ہیں۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read