بہار میں اسمبلی انتخابات 2025 کے پہلے مرحلے کا آخری دور جاری ہے۔ حکومت اپنی انتخابی مہم میں ترقی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے، جبکہ اپوزیشن مختلف مسائل کو سامنے رکھ کر این ڈی اے کو نشانے پر لے رہی ہے۔ اسی دوران ارریہ کا ایک پل سرخیوں میں آ گیا ہے، جس نے حکومت کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے۔ دراصل ارریہ میں دریا ئے پرمان پر تقریباً 4 کروڑ روپے کے تخمینہ سے بنایا گیا ایک اہم پل منہدم ہو گیا ہے۔ پل کا ایک ستون دریا میں دھنس گیا، جس کی وجہ سے فاربیس گنج اور پٹیگنا پرکھنڈ کا رابطہ پوری طرح منقطع ہو گیا ہے۔ یہ پل 2019 میں دیہی امور کے محکمہ کے ذریعے تعمیر کیا گیا تھا، اور انتخابات کے دوران محض چار سال پرانے پل کا گر جانا اب مقامی سطح پر ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ اس نے تعمیراتی معیار اور بدعنوانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر جب کہ اس پر 4 کروڑ روپے کی لاگت آئی تھی۔
مقامی لوگ کر رہے ہیں جانچ کا مطالبہ
علاقے کے لوگوں نے پل کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار کی پانچ سالہ گارنٹی مدت ختم ہو چکی ہے، اس کے باوجود پل کی عمری اور معیار کی جانچ ضرور ہونی چاہیے۔
محکمہ کی کیا وضاحت ہے؟
یہ واقعہ ایک بار پھر بہار میں پلوں کے معیار پر سوال اٹھاتا ہے۔ حال ہی میں سکٹی پرکھنڈ کے پڈرّیا میں 12 کروڑ روپے کا پل بھی دھنس گیا تھا۔ دونوں پلوں کی تعمیر دیہی امور کا محکمہ، ارریہ نے ہی کرائی تھی۔ محکمہ کے انجینئر چندر شیکھر کمار نے بتایا کہ پل کے دھنسنے کی اطلاع پہلے ہی محکمہ کو مل گئی تھی اور ضلع مجسٹریٹ و پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
انتخابی دور میں بڑا سیاسی مسئلہ
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بہار اسمبلی انتخابات اپنے عروج پر ہیں، جس سے حکومت اور محکمہ دونوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ مقامی لوگوں اور اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے کی جانچ اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انتخابی ماحول میں پل کے ایک ستون کے دریا میں دھنس جانے کا یہ واقعہ بدعنوانی اور تعمیراتی معیار پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے سیاسی گلیاروں میں گرماہٹ پیدا کر رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
