نئی دہلی۔ دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے اور عوام کی صحت پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پیر کی صبح قومی دارالحکومت میں اوسط فضائی معیار اشاریہ 411 ریکارڈ کیا گیا، جو انتہائی سنگین زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ دہلی کے کئی علاقوں میں صورتحال اس سے بھی بدتر رہی، جہاں سانس لینا دشوار ہو گیا۔ آلودگی کا یہ شدید اثر نہ صرف دہلی بلکہ پورے این سی آر اور پڑوسی ریاستوں تک محسوس کیا جا رہا ہے۔فضائی آلودگی کے ساتھ ساتھ گھنے کہرے نے بھی حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ حدِ نگاہ میں شدید کمی کے باعث دہلی ہوائی اڈے پر فضائی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔ پیر کے روز مختلف ایئرلائنز کی 228 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جن میں 131 روانگی اور 97 آمد کی پروازیں شامل ہیں، جبکہ پانچ پروازوں کا رخ متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑنا پڑا۔ دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ نے کہا ہے کہ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ تال میل کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔
انڈیگو سمیت دیگر ایئرلائنز نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گھنے کہرے اور کم حدِ نگاہ نے دہلی اور شمالی بھارت کے کئی ہوائی اڈوں پر آپریشن کو متاثر کیا ہے۔ مسافروں کو طویل انتظار سے بچانے کے لیے احتیاطی طور پر کچھ پروازیں منسوخ کی گئی ہیں۔دوسری جانب بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ نے سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیشن نے دہلی این سی آر کے تمام اسکولوں میں آؤٹ ڈور کھیلوں اور سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ آلودگی کی سطح بچوں کے پھیپھڑوں اور سانس کے نظام کے لیے نہایت خطرناک ہے۔
ڈاکٹروں نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوام کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق اس درجے کی آلودگی دمہ، سانس کی تکالیف اور آنکھوں میں جلن جیسی بیماریوں کو بڑھا سکتی ہے۔ شہریوں کو ماسک کے استعمال اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
