نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 7 سے 9 فروری تک چھتیس گڑھ کے تین روزہ دورے پر رہیں گے، جہاں وہ ریاست میں نکسل ازم کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ اس دورے کو مرکز کی اس حکمت عملی کا ایک اہم اور فیصلہ کن قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل ازم کے مکمل خاتمے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ کے مطابق امت شاہ 7 فروری کی شام رائے پور پہنچیں گے اور وہاں سینئر انتظامی اور سکیورٹی افسران کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کریں گے، جس میں ریاست کی مجموعی سکیورٹی تیاری، انسداد نکسل کارروائیوں اور زمینی سطح پر صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔ چونکہ چھتیس گڑھ خاص طور پر بستر خطہ نکسل تشدد سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
انسداد نکسل حکمت عملی پر اعلیٰ سطحی اجلاس
8 فروری کو امت شاہ رائے پور میں اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس اجلاس میں مرکزی وزارت داخلہ، ریاستی حکومت، پولیس اور مرکزی نیم فوجی دستوں کے اعلیٰ افسران شریک ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں مارچ 2026 کی ڈیڈ لائن کو سامنے رکھتے ہوئے آئندہ کے لیے حتمی روڈ میپ تیار کیا جائے گا تاکہ نکسل ازم کے خاتمے کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔
نکسل تشدد میں نمایاں کمی، حکومت کا دعویٰ
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں انسداد نکسل کارروائیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے، جس کے نتیجے میں تشدد کے واقعات، جانی نقصان اور نکسل ازم کے جغرافیائی دائرے میں مسلسل کمی واقع ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق: 2010 میں لیفٹ وِنگ ایکسٹریم ازم سے متاثرہ اضلاع کی تعداد 126 تھی، جو دسمبر 2025 تک گھٹ کر صرف 8 رہ گئی ہے، جبکہ ان میں سے بھی صرف 3 اضلاع انتہائی متاثرہ قرار دیے گئے ہیں۔ 2010 میں تشدد کے واقعات کی تعداد 1,936 تھی، جو 2025 میں کم ہو کر 234 رہ گئی، یعنی 88 فیصد کمی۔ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں 2010 میں 1,005 تھیں، جو 2025 میں گھٹ کر 100 رہ گئیں، یعنی 90 فیصد کمی۔ اسی طرح 2025 کے دوران سکیورٹی فورسز نے 364 نکسلوں کو ہلاک، 1,022 کو گرفتار اور 2,337 کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کیا۔
فارورڈ آپریٹنگ بیسز: نکسل گڑھوں میں مضبوط گرفت
نکسل ازم کے خاتمے کے لیے سی آر پی ایف اور دیگر مرکزی نیم فوجی دستوں نے ایک جامع حکمت عملی کے تحت دور دراز اور جنگلاتی علاقوں میں فارورڈ آپریٹنگ بیسز (FOBs) قائم کیے ہیں۔ 2019 سے اب تک چھ ریاستوں میں کل 229 فارورڈ آپریٹنگ بیسز قائم کی جا چکی ہیں، جن میں سب سے زیادہ چھتیس گڑھ میں 32، جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش میں 9،9، مہاراشٹر اور اوڈیشہ میں 4،4 جبکہ تلنگانہ میں 1 بیس قائم کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ بیسز نکسلوں کے مضبوط گڑھوں میں سیکورٹی فورسز کی مستقل موجودگی کو یقینی بناتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی نقل و حرکت محدود ہوئی ہے بلکہ علاقائی ترقی اور عوامی فلاحی اسکیموں کے نفاذ میں بھی مدد ملی ہے۔
ترقی اور سلامتی کی دوہری حکمت عملی
مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ نکسل ازم کے خاتمے کے لیے صرف فوجی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ترقی اور فلاحی منصوبوں کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اسی مقصد کے تحت سڑکوں کی تعمیر، موبائل نیٹ ورک کی توسیع، بینکنگ سہولیات، صحت اور تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ 2024 میں حکومت نے ایک نئی درجہ بندی متعارف کروائی، جس کے تحت ایسے اضلاع کو ’’لیگیسی اور تھرسٹ ڈسٹرکٹس‘‘ قرار دیا گیا، جو اب نکسل متاثرہ نہیں رہے مگر وہاں مستقل ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی معاونت جاری رکھی جائے گی۔ اس وقت ملک میں 30 اضلاع اس زمرے میں شامل ہیں۔
ثقافتی پروگراموں میں شرکت
8 فروری کی شام امت شاہ رائے پور میں منعقد ہونے والے قومی کنکلیو ’’چھتیس گڑھ @ 25: شفٹنگ دی لینس‘‘ میں شرکت کریں گے، جس کا اہتمام ہفت روزہ جریدے آرگنائزر (بھارت پرکاشن) نے کیا ہے۔ 9 فروری کو وہ جگدل پور (بَستر) جا کر بَستر پنڈم مہوتسو 2026 کی اختتامی تقریب میں شریک ہوں گے، جو قبائلی ثقافت اور روایات کے فروغ کے لیے ایک اہم تہوار سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
