Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah conducts another high-level security meet: دہلی دھماکے کے بعد امت شاہ کی ایک اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگ، کیس این آئی اے کے حوالے، مشترکہ تحقیقات جاری

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی جائزے کے دوران اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا دھماکے کا تعلق پیر کو فرید آباد سے بڑی مقدار میں برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے ہے۔ این آئی اے اور ایف ایس ایل کی ٹیموں نے منگل کی صبح دوبارہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مزید فورینسک ثبوت اکٹھے کیے۔

نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دہلی میں لال قلعہ کے نزدیک کار دھماکے کے ایک روز بعد منگل کو ایک اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی جائزہ میٹنگ کی۔ اس دھماکے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ دوسری میٹنگ سہ پہر تین بجے وزارت داخلہ کے کرتویہ بھون میں شروع ہوئی۔ اس سے قبل پہلی میٹنگ صبح 11 بجے وزیر داخلہ کی رہائش گاہ پر ہوئی تھی، جس میں ہوم سکریٹری گووند موہن، انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، این آئی اے کے ڈی جی سدانند وسنت ڈیٹ، دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچہ اور جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نلن پرابھات نے ورچوئل طور پر شرکت کی۔

دہلی میں سکیورٹی ہائی الرٹ، مشترکہ انکوائری کا حکم

دھماکے کے فوراً بعد امت شاہ نے آئی بی چیفس اور دہلی پولیس سے بات چیت کی اور ہدایت دی کہ این آئی اے، این ایس جی، ایف ایس ایل اور دہلی پولیس مل کر مشترکہ اور ہم آہنگ تحقیقات کریں۔ وزارت داخلہ نے پہلے مرحلے کی میٹنگ کے بعد کیس کو باضابطہ طور پر این آئی اے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ واقعے میں دہشت گردی کے زاویے کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔ این آئی اے اب دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد، ممکنہ نیٹ ورک اور منصوبہ بندی کے تمام پہلوؤں کی جانچ کرے گی۔ اس سے قبل نیشنل سکیورٹی گارڈ اور ایف ایس ایل کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کیے تھے۔

فرید آباد میں دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی سے ممکنہ ربط کی جانچ

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی جائزے کے دوران اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ کیا دھماکے کا تعلق پیر کو فرید آباد سے بڑی مقدار میں برآمد ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے ہے۔ این آئی اے اور ایف ایس ایل کی ٹیموں نے منگل کی صبح دوبارہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور مزید فورینسک ثبوت اکٹھے کیے۔

این آئی اے جلد ایف آئی آر درج کرے گی

این آئی اے جلد اس کیس میں ایف آئی آر درج کرے گی اور دہلی پولیس کی جانب سے اب تک جمع کیے گئے تمام شواہد اپنے تحویل میں لے گی۔ مرکزی حکومت نے واضح کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور انتہائی باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں گی تاکہ ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read