دہلی پولیس کے 79ویں یومِ تاسیس کی تقریب شرکت کرکے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا، ’’دہلی پولیس کے 10 نئے منصوبوں کا آج یہاں سنگِ بنیاد رکھا گیا ہے۔ دہلی کو 10 ہزار کیمروں سے جوڑنے کے پروگرام کے پہلے مرحلے میں 2100 کیمرے لائیو منسلک ہو چکے ہیں۔ دہلی میں پہلے سے موجود 15 ہزار سے زائد کیمروں کو بھی اس نظام کے ساتھ جوڑنے کا کام مکمل ہو چکا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سیف سٹی اسکیم آنے والے دنوں میں دہلی کی سکیورٹی کو مزید مضبوط کرے گی۔ ملک کی راجدھانی میں قانون و انتظام برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے، اسی لیے دہلی پولیس کی ذمہ داریاں اور ان کی مؤثر ادائیگی پورے ملک کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘
’دہلی صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہمارے جمہوری نظام کی دھڑکن‘
انہوں نے کہا کہ دہلی صرف ایک شہر نہیں بلکہ ہمارے جمہوری نظام کی دھڑکن ہے۔ یہ قوم کے وقار اور شناخت کا مرکز ہے۔ دارالحکومت ہونے کے باعث یہاں کی سکیورٹی کا معیار انتہائی اعلیٰ ہونا ضروری ہے۔ دہلی میں متعدد سفارتی ملاقاتیں، بین الاقوامی کانفرنسیں اور قومی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اسی کے ساتھ یہاں صدرِ جمہوریہ اور وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہیں بھی موجود ہیں، جس کے باعث دہلی پولیس کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔
سائبر جرائم اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں
امت شاہ نے مزید کہا، ’’دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے منشیات کے نیٹ ورک، جعلی بھارتی کرنسی کے گروہوں، پیچیدہ سائبر جرائم اور منظم جرائم کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی ہیں۔ دہشت گردی کے معاملات کی تفتیش میں بھی اسپیشل سیل نے اہم اور کامیاب کردار ادا کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں جب ملک میں انصاف کی بات ہوگی تو تین نئے فوجداری قوانین کا ذکر ضرور کیا جائے گا، جن کا مقصد سزا نہیں بلکہ انصاف فراہم کرنا ہے۔ یہ قوانین بھارتی پارلیمنٹ میں منظور کیے گئے ہیں۔ تقریباً 150 سال پہلے انگریزوں کے بنائے گئے قوانین کو منسوخ کر کے ہم نے انصاف پر مبنی نظام قائم کیا ہے۔ ان قوانین کے مکمل نفاذ کے بعد ملک کے کسی بھی حصے میں ہونے والے جرم کے معاملے میں تین سال کے اندر سپریم کورٹ تک انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ نئے قوانین کے مکمل اطلاق کے بعد سزا کی شرح کو 80 فیصد تک لے جانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



