الہ آباد ہائی کورٹ نے میعاد ختم ہونے کے بعد گرام پردھانوں کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بنائے جانے کے فیصلے پرروک لگا دی ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں حکومت کے فیصلے کوغیرآئینی بتایا ہے۔ یہ حکم اروند راٹھورکی عرضی پرسماعت کے دوران دی گئی۔ عرضی میں میعاد ختم ہونے کے بعد گرام پردھانوں کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بنائے جانے کے فیصلے کوچیلنج دیا گیا تھا۔ معاملے کی آئندہ سماعت اب 13 جولائی کوہوگی۔
آ پ کوبتا دیں کہ یوپی میں گرام پردھانون کی میعاد 26 مئی 2026 کوختم ہوگئی تھی۔ ریاست میں 57 ہزارسے زیادہ گرام پنچایت ہیں۔ گرام پنچایت الیکشن میں تاخیرہونے کی وجہ سے حکومت کی طرف سے گرام پردھانوں کو’ایڈمنسٹریٹر‘ بنا دیا گیا تھا۔ اسی معاملے میں ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ریاست میں پنچایتوں کے انتظامی کام کاج سے متعلق ایک بڑا سوال کھڑا ہوگیا ہے۔
اوبی کمیشن کی رپورٹ بھی ہوگی پیش
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ نے گرام پردھانوں کی میعاد 6 ماہ تک بڑھائے جانے پرناراضگی ظاہرکی ہے اورریاستی الیکشن کمیشن سے الیکشن کی تاریخ بتانے کو کہا ہے۔ اس درمیان حکومت کوآئندہ ہونے والی سماعت پراوبی سی کمیشن کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کے احکامات بھی دیئے گئے ہیں۔
یوپی گرام پنچایت الیکشن کب ہوں گے؟
آپ کو بتا دیں کہ یوپی حکومت پہلے ہی اوبی سی کمیشن کی تشکیل کو منظوری دے چکی ہے۔ یہ کمیشن ریاست کے سبھی اضلاع کا دورہ کرکے پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی اوران کی صورتحال پر رپورٹ تیار کرے گا۔ اس رپورٹ کی بنیاد پرہی گرام پنچایتوں میں ریزرویشن طے ہوگا۔ ایسے میں پنچایت الیکشن میں تقریباً 6 ماہ کی تاخیرہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے حال ہی میں پنچایت الیکشن سے متعلقہ ووٹرلسٹ بھی جاری کردی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذریعہ جاری فائنل ووٹرلسٹ کے مطابق، پنچایت الیکشن کے لئے یوپی میں اب 12 کروڑ 58 لاکھ سے زیادہ ووٹرہیں۔ ووٹرلسٹ میں تقریباً 1.81 کروڑ نئے ووٹروں کو شامل کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




