Bharat Express DD Free Dish

سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کے فیصلے کو الہ آباد ہائی کورٹ نے کیا منسوخ، ایس پی-ڈی ایم کو سخت پھٹکار، ’’لا اینڈ آرڈر نہیں سنبھال سکتے تو استعفیٰ دے دیں‘‘

الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش انتظامیہ کے ذریعہ سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ تمام برادریوں کے پرامن طریقے سے عبادت کرنے کے حق کویقینی بنائے، خاص طورپرنجی املاک پر۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے سنبھل مسجد میں نمازیوں کی تعداد کومحدود کرنے کے اترپردیش انتظامیہ کے فیصلے کومسترد کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگراہلکارامن وامان برقرارنہیں رکھ سکتے تومستعفی ہوجائیں۔ عدالت نے ریاست کے فرض پرزوردیا کہ وہ ہرکمیونٹی کے اپنی عبادت گاہ پرپرامن طریقے سے عبادت کرنے کے حق کویقینی بنائے، خاص طورپراگریہ نجی ملکیت ہو۔
جسٹس اتل شری دھراورسدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا کہ اگرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اورضلع کلکٹرامن وامان برقراررکھنے میں ناکام ہیں توانہیں یا تواستعفیٰ دے دینا چاہئے یا تبادلے کی درخواست کرنی چاہئے، بجائے اس کے کہ وہ قانون کونافذ کرنے میں قاصرہوں۔

جسٹس اتل سریدھرن اورسدھارتھ نندن کی بنچ نے کہا کہ اگرسپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) اورضلع کلکٹرامن وامان برقراررکھنے میں ناکام ہیں، توانہیں یا تواستعفیٰ دے دینا چاہئے یا تبادلے کی درخواست کرنی چاہئے، بجائے اس کے کہ وہ عدالت سے راحت مانگے۔ اگروہ لااینڈ آرڈرپرعمل کرانے میں قاصرہیں۔

عدالت نے مقامی انتظامیہ کولگائی پھٹکار

عدالت نے سخت لہجے میں کہا کہ یہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ ہربرادری متعین عبادت گاہ پرپُرامن طریقے سے عبادت کرسکے اوراگریہ نجی ملکیت ہے، جیسا کہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے، توریاست کی اجازت کے بغیرعبادت کرنے کا حق ہونا چاہئے۔ پولیس افسران کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے عدالت کوبتایا تھا کہ زیادہ بھیڑہونے سے لااینڈ آرڈرنہیں بنائی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عید پروہاں محدود تعداد میں نمازپڑھنے کی اجازت دی جائے۔ حالانکہ عدالت نے انتظامیہ کے اس ترک کوازسرنوخارج کردیا۔

جمعہ کی نمازمیں ہوئی بھاری فورس تعینات

واضح رہے کہ گزشتہ سال یہاں ہنگامہ ہوا تھا۔ سنبھل میں رمضان المبارک کی الوداع جمعہ سخت سیکورٹی کے درمیان ادا کی گئی تھی۔ نمازکے دوران بڑی تعداد میں پولیس اہلکارتعینات کئے گئے تھے۔ پورے شہرکی نگرانی سی سی ٹی وی کنٹرول روم سے کی گئی تھی۔ نمازمیں ملک، دنیا اورشہرمیں امن وامان کی دعا کی گئی۔ 2500 سے زیادہ لوگوں نے نمازادا کی تھی۔ عدالت کے سخت تبصرہ کے بعد دیکھنا ہوگا کہ آنے والے دنوں میں انتظامیہ کی طرف سے کیا تیاریاں کی جاتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read