Urdu Conclave 2026

AMU Vice Chancellor Appointment Case: اے ایم یو کے وائس چانسلر کی تقرری کا معاملہ، ہائی کورٹ آج سنا سکتا ہے فیصلہ

عدالتی دستاویزات اور سرکاری ذرائع سے موصول ہوئی جانکاری کے مطابق، ایکٹنگ وائس چانسلر پر جان بوجھ کر اس سلیکشن کمیٹی کی صدارت کرنے کا الزام ہے، جس میں ان کی اہلیہ امیدوار تھیں، یہ اقدام ادارہ جاتی اخلاقیات اور سروس کنڈکٹ کے قوانین کی ڈائریکٹ خلاف ورزی ہے

اے ایم یو کے وائس چانسلر کی تقرری کا معاملے میں کورٹ آج سنا سکتا ہے فیصلہ

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے وائس چانسلر کی تقرری کے عمل کو چیلنج کرنے والی عرضی پر ہائی کورٹ آج اپنا فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ اپریل میں کیس کی سماعت کے دوران فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ بتاتے چلیں کہ اے ایم یو میں کے وائس چانسلر کی تقرر میں تنازعہ اس وقت کھڑا ہو گیا، جب ایکٹنگ وائس چانسلر نے انتخابی عمل کے لیے ذمہ دار سلیکشن کمیٹی کی سربراہی کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کی تقرری میں مبینہ طور پر مدد کی اور مفادات کے ٹکراؤ کے قوانین کی خلاف ورزی کی۔

مجاہد بیگ نے لگایا تقرری کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام

اے ایم یو کے پروفیسر مجاہد بیگ نے ایک مخصوص امیدوار کی طرفداری اور وائس چانسلر کی تقرری کے عمل میں بے ضابطگیوں کا الزام لگایا تھا۔ اس کے خلاف نومبر 2023 میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر جسٹس اشونی کمار مشرا اور جسٹس ڈی رمیش کی بنچ کے سامنے 3، 4 اور 5 مارچ 2025 کو بحث ہوئی تھی۔ فیصلہ اپریل میں محفوظ کر لیا گیا تھا۔

ایکٹنگ وی سی پر جان بوجھ کر کمیٹی کی صدارت کرنے کا الزام

عدالتی دستاویزات اور سرکاری ذرائع سے موصول ہوئی جانکاری کے مطابق، ایکٹنگ وائس چانسلر پر جان بوجھ کر اس سلیکشن کمیٹی کی صدارت کرنے کا الزام ہے، جس میں ان کی اہلیہ امیدوار تھیں، یہ اقدام ادارہ جاتی اخلاقیات اور سروس کنڈکٹ کے قوانین کی ڈائریکٹ خلاف ورزی ہے۔ اس نے ہندوستان کی سب سے باوقار مرکزی یونیورسٹیوں میں سے ایک میں انتظامی اختیارات کے غلط استعمال اور حقیقی ذمہ داری کی خلاف ورزی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

شکایت کنندگان کی کیا ہے دلیل؟

شکایت کنندگان کی دلیل ہے کہ یہ مفادات کے تصادم کا درسی کتاب کا معاملہ ہے، جو سنٹرل سول سروسز (کنڈکٹ) رولز اور یو جی سی کے ضوابط کے تحت ممنوع ہے، جو پبلک فنڈز حاصل کرنے والی یونیورسٹیوں پر لاگو ہوتے ہیں۔ واضح گائیڈلائنز کے باوجود جو سرکاری افسران کو قریبی رشتہ داروں سے جڑے معاملوں کی صدارت کرنے سے روکتے ہیں، وائس چانسلر نے مبینہ طور پر طریقہ کار کے تحفظات کو نظرانداز کیا اور تقرری کو آگے بڑھایا۔

کیا کہتے ہیں قانون کے جانکار؟

قانون کے جانکار نے اس کیس کو اعلیٰ تعلیمی انتظامیہ میں شفافیت اور دیانتداری کو یقینی بنانے کے لیے ممکنہ طور پر ایک اہم لمحہ قرار دیا ہے۔ کارروائی سے واقف ایک سینئر وکیل نے کہا، ’’اگر ثابت ہو جائے تو یہ نہ صرف یونیورسٹی کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اخلاقی خلاف ورزی ہے جو تعلیمی اداروں پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتی ہے۔‘‘

سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز کی گہری نظر

 علمی برادری اور سول سوسائٹی کے اسٹیک ہولڈرز گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ایسے فیصلے کی امید کر رہے ہیں جو ہندوستان میں گورننس اور یونیورسٹیوں کے احتساب کے لیے نئے معیارات قائم کر سکے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔