Urdu Conclave 2026

All India Unani Tibbi Congress: یونانی طب کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی: ڈاکٹر ایس کے شرما

آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کی جانب سے جموں و کشمیر میں ’’یونانی طب کی موجودہ حیثیت‘‘ پر کانفرنس کا انعقاد۔ یونانی طب کی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سری نگر: آل انڈیا یونانی طبی کانگریس (اے آئی یو ٹی سی) جموں و کشمیر چیپٹر کے زیر اہتمام حج ہاؤس میں ’’یونانی طب کی موجودہ حیثیت‘‘ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت حکیم محمد اشرف لون نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں حکیم لون نے خطے میں یونانی طب کی موجودہ صورتِ حال کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور ماہرینِ طب و اداروں کو درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے ان خدشات کو ڈائریکٹر آیوش کے سامنے رکھا۔ انہوں نے یونانی طب کو عوامی صحت کے نظام میں مؤثر کردار دینے کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں۔

ڈاکٹر شرما کا خطاب اور اقبال کا حوالہ

مہمانِ خصوصی ڈاکٹر ایس کے شرما، ڈائریکٹر محکمہ آیوش جموں و کشمیر نے اپنے کلیدی خطاب کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا: ’’کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری/صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زمانہ ہمارا‘‘۔ ڈاکٹر شرما نے یقین دہانی کرائی کہ یونانی طب کے فروغ اور استحکام کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں وزارتِ آیوش کے قیام کے بعد سے تمام روایتی نظام ہائے طب کو ترقی اور ادارہ جاتی معاونت کے یکساں مواقع حاصل ہوئے ہیں۔  انہوں نے کہا ’’ویژن، عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ ہم اپنے اہداف حاصل کر سکتے ہیں اور یونانی طب کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔‘‘

مرکزی حکومت کا باہمی اشتراک پر زور

ڈاکٹر شرما نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت مختلف نظام ہائے طب کے مابین باہمی ربط اور اشتراک کی حامی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ عوامی فائدہ حاصل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی نظامِ طب کے فروغ کے لیے تین عناصر ضروری ہیں: حکومتی توجہ، پیشہ ورانہ دیانت و خلوص اور عوامی طلب۔ ان کے مطابق موجودہ دور، خواہ ملک کے اندر ہو یا بیرونِ ملک، ان سب کے لیے انتہائی سازگار ہے کیونکہ آیوروید اور یونانی جیسے روایتی نظام عالمی سطح پر غیر معمولی پذیرائی حاصل کر رہے ہیں۔

طب یونانی ایک الہی نعمت 

معروف عالم دین مولانا رحمت اللہ فاروقی نے یونانی طب کو ایک الہی نعمت قرار دیتے ہوئے اس کی فطری بنیاد اور کم ضمنی اثرات کو اجاگر کیا، جن کی بدولت یہ طبقۂ خواص و عوام دونوں کے لیے یکساں مفید ہے۔ ڈاکٹر عرفت آرا، ڈپٹی ڈائریکٹر سی سی آر یو ایم (سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن) نے ادارے کی کامیابیوں اور جاری تحقیقی منصوبوں پر روشنی ڈالی جن کا مقصد یونانی طریقۂ علاج کو سائنسی بنیادوں پر مستحکم کرنا ہے۔

تنظیمی سرگرمیاں اور مستقبل کی حکمتِ عملی

ڈاکٹر سید احمد خان، جنرل سکریٹری آل انڈیا یونانی طبی کانگریس نے تنظیمی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے اس تحریک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ یونانی طب پورے ملک میں فروغ پاتی رہے۔

پیشہ ورانہ اخلاقیات کی اہمیت

جامعہ ہمدرد کے سابق ڈین پروفیسر ایس ایم عارف زیدی نے اطباء کو نصیحت کی کہ وہ اپنے کلینکل عمل میں اخلاقی اور باوقار معیار کو برقرار رکھیں اور کسی احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں، کیونکہ یونانی نظامِ طب کی اصل طاقت اس کے آزمودہ علمی ورثے اور شفا بخش صلاحیت میں مضمر ہے۔ دیگر ممتاز مقررین میں ڈاکٹر شوکت علی (رجسٹرار آیوش، جموں و کشمیر) اور پروفیسر شارق مسعودی شامل تھے جنہوں نے ادارہ جاتی ترقی اور اشتراک پر اظہار خیال کیا۔

شرکاء کی نمائندگی اور کامیاب نظامت

اس کانفرنس میں جموں و کشمیر بھر سے بڑی تعداد میں یونانی اطباء نے شرکت کی جبکہ دیگر ریاستوں سے آنے والے نمایاں شرکاء میں ڈاکٹر ایس ایم یعقوب (ناگپور)، ڈاکٹر لائق علی خان (کاس گنج، اتر پردیش)، ڈاکٹر محمد رفیق (دہلی)، ڈاکٹر احسان احمد صدیقی (دہلی)، ڈاکٹر فیضان احمد صدیقی (دہلی)، ڈاکٹر عبدالمجید علیگ (دہلی)، ڈاکٹر فرمان علی (دہلی)، ڈاکٹر سید منصور جمال کاظمی (دہلی)، ڈاکٹر خورشید عالم (دہلی)، ڈاکٹر محمد اویس (ناگپور)، ڈاکٹر منہاج الدین خان (حیدرآباد)، ڈاکٹر مسز منہاج (حیدرآباد)، ایڈووکیٹ شاہ جبین قاضی (دہلی)، جناب اسرار احمد اُجینی (دہلی) اور جناب اقبال علی (دہلی) شامل تھے۔ کانفرنس کی نظامت ڈاکٹر محمد یوسف ڈنٹھو نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی اور شرکاء کے مابین بامعنی و مفید گفتگو کو ممکن بنایا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read