اکولہ فرقہ وارانہ تشدد معاملہ
ممبئی: آنریبل سپریم کورٹ کی جسٹس سنجے کمار اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل بنچ نے جمعہ کے روز 13 مئی 2023 کو پیش آئے اکولہ فرقہ وارانہ تشدد کیس میں ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ اس واقعے میں 17 سالہ محمد افضل نہ صرف خود زخمی ہوا تھا بلکہ اس نے ولاس مہادیوراؤ گائیکواڑ کے قتل کو بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ اس کے باوجود، پولیس نے افضل کی یکم جون 2023 کو دی گئی تفصیلی شکایت پر نہ تو ایف آئی آر درج کی اور نہ ہی اس کا بیان ریکارڈ کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 17 اگست 2023 کو دائر کی گئی چارج شیٹ سے اسے مکمل طور پر خارج کر دیا گیا، جس نے تعصب اور فرض میں غفلت کے سنگین سوالات کو جنم دیا۔
تین ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرے گی اسپیشل ٹیم
اس ناانصافی کو تسلیم کرتے ہوئے، عدالت نے کئی اہم احکام جاری کیے۔ عدالت نے نہ صرف میڈیکو-لیگل کیس نمبر 5580 میں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا، بلکہ غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ہندو اور مسلم دونوں برادریوں کے سینئر پولیس افسران کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی تشکیل کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے اس خصوصی ٹیم کو تین ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، عدالت نے ان قصوروار پولیس افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا بھی حکم دیا جنہوں نے واضح میڈیکو-لیگل ریکارڈز اور ڈائری میں اندراج کے باوجود معاملے کی تفتیش کرنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
APCRنے عدالت میں پیش کیا تھا کیس
یہ کیس ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ یہ حکم اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قانون کی حکمرانی کو فرقہ وارانہ نہیں بنایا جا سکتا، اور متاثرین اور عینی شاہدین کی بات سنی جانی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے اپنا آئینی فرض ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جہاں ریاستی مشینری ناکام ہو، وہاں وہ مداخلت کرتی ہے۔ ندیم خان نے اس حکم کا احتساب اور انصاف کی طرف ایک قدم کے طور پر خیرمقدم کیا اور یہ عہد کیا کہ جب تک سچ سامنے نہیں آتا، وہ متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


