اخلاق قتل سانحہ میں اترپردیش کی بی جے پی حکومت کوبڑا جھٹکا لگا ہے۔ سورج پورعدالت نے منگل کے روزملزمین کے خلاف درج مقدمے کوواپس لینے والی عرضی کومسترد کردیا ہے۔ معاملے میں عدالت نے استغاثہ کی طرف سے کیس واپسی سے متعلق لگائی گئی عرضی کوغیراہم اوربے بنیاد قراردے کرمسترد کردیا۔ عدالت کے فیصلے کا مطلب ہے کہ ملزمین کے خلاف کیس جاری رہے گا۔
متاثرہ فریق کے وکیل یوسف سیفی نے کہا کہ متاثرہ فریق کوانصاف ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کی اگلی سماعت 6 جنوری 2026 کوہونی ہے۔ عدالت نے روزانہ سماعت کرنے کی ہدایت دی ہے۔ گریٹرنوئیڈا کے دادری علاقے کے رہنے والے 52 سالہ محمد اخلاق کی 2015 میں ہجوم نے پیٹ پیٹ کرقتل کردیا تھا۔ گھرمیں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ان کا قتل کر دیا گیا تھا۔ اس معاملے میں 18 ملزمین کوبھی پولیس نے گرفتارکیا تھا، جس میں تین نابالغ بھی شامل تھے۔
عرضی پرعدالت نے کیا کہا؟
اترپردیش حکومت نے قتل سانحہ میں ملزم کی سزا معافی کی عرضی نومبرمیں دائرکی تھی، جس میں سرکاری وکیل کے ذریعہ حکومت کی طرف سے فریق بنایا گیا تھا، جس میں آج سماعت ہوئی ہے۔ حکومت کی عرضی پرعدالت نے کہا کہ دفعہ 321 میں سرکاری فریق کے وکیل کے ذریعہ کوئی بھی ثبوت یا کوئی بھی گراونڈ نہیں دیا ہے، جس پرغورکیا جاسکے۔ الزامات طے ہو چکے ہیں، اس میں چارج شیٹ بھی داخل ہوئی ہے، ان ساری باتوں پردھیان دیتے ہوئے عدالت نے بے بنیاد اوربلاثبوت مانتے ہوئے حکومت کی عرضی کو خارج کردیا۔
دفعہ 321 کا کیا ہے مطلب؟
سی آرپی سی کی دفعہ 321 میں یہ بتایا گیا ہے کہ پبلک پراسیکیوٹریا اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹرکورٹ کی رضامندی سے مقدمہ واپس لینے کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ اس معاملے کے لئے عدالت کی رضامندی ضروری ہے۔ دفعہ 321 کے تحت، عدالت کے پاس یہ طے کرنے کی طاقت ہے کہ پراسیکیوٹرکے ذریعہ مانگا گیا مقدمہ واپس لینا صحیح ہے یا نہیں اورکیا اس سے انصاف میں کوئی گڑبڑی ہوگی۔ اس درمیان، اخلاق احمد کی اہلیہ نے ہائی کورٹ میں بھی عرضی داخل کرکے حکومت اورانتظامی احکامات کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جودرخواست واپسی سے متعلق ہے۔
استغاثہ فریق نے کیا کہا تھا؟
استغاثہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ سیکشن 161 سی آرپی سی کے تحت گواہوں کے تحریری بیانات ریکارڈ کئے گئے، جس میں ملزمین کی تعداد 10 بتائی گئی۔ 2015-10-13 کوتفتیش کے دوران بیانات قلمبند کئے گئے۔ استغاثہ کے گواہوں نے کسی ملزم کا نام نہیں لیا۔ گواہوں کے بیانات میں مبینہ تضاد کواجاگرکرتے ہوئے استغاثہ کی درخواست میں کہا گیا کہ گواہوں کے بیانات میں ملزمان کی تعداد میں تبدیلی کی گئی ہے۔ مزید برآں استغاثہ کے گواہ اورملزم دونوں ایک ہی گاؤں کے رہائشی تھے۔ ایک ہی گاؤں سے تعلق ہونے کے باوجود شکایت کنندہ اوردیگرگواہوں نے اپنے بیانات میں ملزمان کی تعداد تبدیل کردی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



