چندر شیکھرن نے کہا، ’’ہمارا مستقبل روشن ہے، جو ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فی الحال ہم ایک چیلنجنگ وقت سے گزر رہے ہیں، جہاں ہماری توجہ عملدرآمد پر ہونی چاہیے۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو ہمارے کنٹرول میں ہیں، جہاں ہم بہتری لا سکتے ہیں، اخراجات کے معاملے میں محتاط رہیں اور صورتحال کی حقیقت سے باخبر رہیں۔‘‘ چندر شیکھرن نے کہا کہ ایئر انڈیا کے لیے سلامتی سب سے زیادہ اہم اور ناقابل سمجھوتہ معاملہ ہے، جو آپریشن، انجینئرنگ، تربیت اور کسٹمر تجربے سے متعلق تمام فیصلوں کا مرکز ہے۔ انہوں نے کہا، ’’مل کر کام کریں، گاہک کو مدنظر رکھیں۔ یہ سفر ابھی شروع ہوا ہے اور ہمیں ابھی طویل راستہ طے کرنا ہے۔ لگے رہیے، ہم منزل تک پہنچ جائیں گے۔‘‘
چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمپبل ولسن نے 2026 میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے
چندر شیکھرن کے یہ تبصرے ایئرلائن میں قیادت اور آپریشنل تبدیلیوں کے درمیان سامنے آئے ہیں، کیونکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کیمپبل ولسن نے 2026 میں عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹاٹا کی ملکیت والی ایئرلائن نے بتایا کہ نئے سی ای او کی تقرری تک کیمپبل ولسن اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔ جون 2025 میں احمد آباد کے قریب بوئنگ 787 طیارہ حادثے میں 260 افراد کی ہلاکت کے بعد ایئر انڈیا پر سخت ریگولیٹری نگرانی شروع ہو گئی تھی۔ بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایئر انڈیا کو حفاظتی خامیوں پر سرزنش کی گئی، جن میں بغیر درست پرواز کی اہلیت کے سرٹیفکیٹ کے طیارے اڑانا اور ہنگامی آلات کی مناسب جانچ کے بغیر پروازیں چلانا شامل تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کا اثر
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران، ایئر انڈیا نے تین ہفتوں میں مغربی ایشیا کے لیے تقریباً 2,500 پروازیں منسوخ کر دیں اور مشرقِ وسطیٰ کے اپنے معمول کے شیڈول کا صرف 30 فیصد ہی چلا سکی۔ اس کے علاوہ، پائلٹ تنظیم ایئرلائنز پائلٹس ایسوسی ایشن آف انڈیا (ALPA) نے مارچ میں ڈی جی سی اے سے اپیل کی کہ ایئر انڈیا کے اندر فیصلہ سازی کے عمل، خاص طور پر آپریشنز کے نائب صدر اور کریو شیڈولنگ شعبے کے کردار کی گہرائی سے جانچ کی جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



