مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جمعرات کو جے پور کے ددیا گاؤں کے دورے پر ہیں، جہاں وہ ’’کوآپریشن اینڈ ایمپلائمنٹ فیسٹیول‘‘ میں شرکت کریں گے۔ اس تقریب کے دوران کوآپریٹو سیکٹر سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں اور نوجوانوں میں تقرری کے خطوط بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ تاہم اس دورے پر شدید سیاسی رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ راجستھان کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر اشوک گہلوت نے کنہیا لال قتل کیس میں پیش رفت نہ ہونے پر جواب طلب کرتے ہوئے مرکزی وزیر پر تنقید کی ہے۔
اشوک گہلوت نے لکھا کہ ’’آج مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جے پور آرہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات سے پہلے، آپ نے راجستھان کی ہر ریلی میں کنہیا لال کیس کا ذکر کیا اور ان کے نام پر ووٹ مانگے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’راجستھان پولس نے ملزمان کو چار گھنٹے کے اندر گرفتار کر لیا، دونوں بی جے پی سے وابستہ تھے۔ اس کے باوجود آپ کی وزارت کے تحت NIA نے راتوں رات اس کیس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں تھا۔ لیکن بی جے پی نے معاوضے کے بارے میں جھوٹ پھیلانا جاری رکھا، جو ہماری حکومت کے گرنے کی ایک بڑی وجہ تھی۔‘‘
’کنہیا لال کا خاندان کب تک انصاف کا انتظار کرے گا؟‘ اشوک گہلوت نے پوچھا
اشوک گہلوت نے اس کیس میں انصاف کی سست رفتاری پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ ’’تین سال گزر چکے ہیں، لیکن این آئی اے عدالت نے کوئی سزا نہیں سنائی ہے۔ یہاں کی این آئی اے عدالت میں ایک باقاعدہ جج بھی نہیں ہے اور گواہوں کے بیانات ابھی تک ریکارڈ نہیں کیے گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے پوچھا کہ ’’کنہیا لال کا خاندان کب تک انصاف کا انتظار کرے گا؟ کیا بی جے پی اس معاملے پر سیاست کرتی رہے گی، یا وہ انصاف کی فراہمی کو لے کر سنجیدہ ہے؟‘‘
واضح رہے کہ 28 جون، 2022 کو ادے پور کے ایک درزی کنہیا لال کو دو افراد نے اس وقت بے دردی سے قتل کر دیا تھا، جب اس نے بی جے پی کی ترجمان نپور شرما کی حمایت میں سوشل میڈیا پوسٹ کی۔ حملہ آوروں نے اس قتل کو ریکارڈ بھی کیا اور وہ ویڈیو آن لائن شیئر کی، جس سے ملک بھر میں غم و غصہ پھیل گیا۔ بعد میں یہ کیس نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو سونپ دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
