اڈانی پورٹس اینڈ اسپیشل اکنامک زون لمٹیڈ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ اس نے 500 ملین ٹن کارگو ہینڈلنگ کا اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جو اس کی ترقی کے سفر میں ایک بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔ 1998 میں ایک واحد بندرگاہ منصوبے سے آغاز کرنے والی کمپنی اب بھارت اور بیرونِ ملک پھیلے 19 بندرگاہوں اور ٹرمینلز کے وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہو چکی ہے، جو ملک کی تجارت، صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
بندرگاہیں صرف تجارتی دروازے نہیں بلکہ قومی اعتماد اور ترقی کی بھی علامت: اڈانی
چیئرمین گوتم اڈانی نے اس کامیابی کو مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بندرگاہیں صرف تجارتی دروازے نہیں بلکہ قومی اعتماد اور ترقی کی علامت بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے صارفین، شراکت داروں، ملازمین اور حکومتی اداروں کا مضبوط انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔یہ کامیابی کمپنی کی ترقی کے سفر میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتی ہے اور بھارت کی انفراسٹرکچر پر مبنی ترقی کی بڑھتی ہوئی طاقت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔یہ سنگِ میل صرف وسعت ہی نہیں بلکہ عالمی معیار کے لاجسٹکس پلیٹ فارم کی ترقی کو بھی ظاہر کرتا ہے، جو طویل مدتی وژن، عملی کارکردگی اور قومی مقصد سے چل رہا ہے۔
’یہ کامیابی بھارت کی ترقی پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے‘
گوتم اڈانی نے کہا کہ یہ کامیابی بھارت کی ترقی پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے بندرگاہوں، ریلوے، سڑکوں، گوداموں اور کارگو گیٹ ویز کو جوڑتے ہوئے ایک مربوط نقل و حمل اور لاجسٹکس نیٹ ورک تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق کمپنی اور ملک دونوں مزید ترقی کے لیے تیار ہیں۔500 ملین ٹن تک پہنچنے کا سفر تیز رفتار ترقی کی مثال ہے۔ کمپنی کو 100 ملین ٹن تک پہنچنے میں 16 سال لگے، لیکن اس کے بعد رفتار میں تیزی آئی اور کارکردگی، مضبوطی اور توسیع میں نمایاں اضافہ ہوا۔
2030 تک ایک ارب ٹن کارگو ہینڈل کرنا
کمپنی کا ہدف 2030 تک ایک ارب ٹن کارگو ہینڈل کرنا ہے، جبکہ عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور بہترین آپریشنز پر توجہ جاری رہے گی۔ اس وقت کمپنی ملک بھر میں بندرگاہوں، ٹرمینلز اور مربوط لاجسٹکس کا وسیع نیٹ ورک چلا رہی ہے، جسے بحری بیڑے، گوداموں اور ٹرکنگ نظام کی مدد حاصل ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



