گجرات اسٹیٹ پولیس کنٹرول روم کے مطابق احمد آباد سے لندن جانے والی ایئر انڈیا کا طیارہ جمعرات کو سردار ولبھ بھائی پٹیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ٹیک آف کے فوراً بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ حالاں کہ ابھی تک ہلاکتوں کی تعداد کنفرم نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی حادثے کی وجہ معلوم ہو سکی ہے، تاہم لگاتار حادثے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر میں پہلے بھی ہوئے ہیں تکنیکی مسائل
بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر ماڈل کو حالیہ برسوں میں بار بار تکنیکی جانچ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اکنامک ٹائمز کی ایک پچھلی رپورٹ میں ہائیڈرولک لیکس اور فلیپ کی خرابیوں کی وجہ سے رجسٹریشن کوڈ N819AN کے ساتھ ڈریم لائنر کے بار بار ڈائیورشن کی نشان دہی کی گئی تھی، جس کہ وجہ سے اس سال کے شروع میں صرف 25 دنوں کے عرصے میں متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں۔
مزید برآں ایک بوئنگ انجینئر اور سٹی بلوور سام نے اس سے قبل نیویارک ٹائمز اور CNN جیسے بڑے امریکی آؤٹ لیٹس میں بوئنگ طیارے کے اس ماڈل کو لے کر خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی اور کہا تھا کہ کمپنی نے 777 اور 787 ڈریم لائنر دونوں ماڈلز پر مینوفیکچرنگ شارٹ کٹس لیے ہیں۔ سام نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے شارٹ کٹس مستقبل میں تباہ کن خطرات کی وجہ بن سکتے ہیں۔
242 افراد تھے سوار
بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر ہوائی جہاز میں 230 مسافر اور عملے کے 12 ارکان یعنی کل 242 افراد سوار تھے۔ یہ AI-171 پرواز لندن گیٹ وِک کے لیے روانہ ہوئی تھی اور رن وے 23 سے 1:39 PM IST پر روانہ ہوئی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے مطابق ہوائی جہاز نے ٹیک آف کے فوراً بعد MAYDAY کال جاری کی لیکن مزید فضائی ٹریفک کنٹرول مواصلات کا جواب دینے میں ناکام رہا۔ طیارہ ہوائی اڈے کی حدود سے نکلتے ہی گر کر تباہ ہوا اور اس کے ملبے سے سیاہ دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔
یہ طیارہ کیپٹن سمیت سبھروال کی کمان میں تھا، جو ایک 8,200 گھنٹے سے زیادہ پرواز کا تجربہ رکھنے والے ایل ٹی سی تھے۔ ان کے معاون پائلٹ اور فرسٹ آفیسر کلائیو کندر کو بھی تقریباً 1,100 گھنٹے پرواز کا تجربہ تھا۔ اس حادثے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔ ڈی جی سی اے، بوئنگ اور ایئر انڈیا سے توقع ہے کہ وہ فوری تکنیکی خرابی اور ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کی ہسٹری دونوں کے بارے میں تفصیلی پوچھ گچھ کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




