Bharat Express DD Free Dish

“Mancha Masjid” was declared safe: سپریم کورٹ سے ملی بڑی کامیابی، 400 سال پرانی ’’منچا مسجد‘‘ کی مرکزی عمارت محفوظ قرار

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ مسجد کی مرکزی عمارت کو کسی بھی صورت میں منہدم نہیں کیا جائے گا۔ صرف مسجد کے بیرونی حصے جن میں سیڑھیاں، پودے اور بیرونی دیوار شامل ہیں، کو منصوبے کے مطابق حاصل کیا جائے گا۔

نئی دہلی: ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) کی جانب سے دائر خصوصی عرضداشت پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے احمدآباد میں سڑک چوڑی کرنے کے منصوبے کے تحت 400 سال قدیم تاریخی منچا مسجد کے جزوی انہدام کے خلاف ایک اہم فیصلہ صادر کیا ہے۔

اصل عبادت گاہ رہے گی محفوظ

عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم نامے میں واضح کیا کہ مسجد کی مرکزی عمارت کو کسی بھی صورت میں منہدم نہیں کیا جائے گا۔ صرف مسجد کے بیرونی حصے (تقریباً 80 مربع میٹر)، جن میں سیڑھیاں، پودے اور بیرونی دیوار شامل ہیں، کو منصوبے کے مطابق حاصل کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مقامی انتظامیہ نے مسجد کی مرکزی عمارت کے ایک حصے (تقریباً 15 مربع میٹر) کو بھی توڑنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے اس حالیہ حکم نامے کے بعد اب مسجد کی اصل عبادت گاہ اور تاریخی ڈھانچہ مکمل طور پر محفوظ رہے گا۔

رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے ’’منچا مسجد‘‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی ریکارڈ کیا کہ اسی سڑک توسیعی منصوبے کے تحت ایک مندر اور متعدد رہائشی و تجارتی عمارتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ چونکہ ’’منچا مسجد‘‘ ایک رجسٹرڈ وقف جائیداد ہے، اس لیے عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وقف بورڈ کو قانون کے مطابق معاوضہ حاصل کرنے کا پورا حق حاصل ہوگا۔ یہ مقدمہ ’’منچا مسجد بنام ریاست گجرات و دیگر‘‘ کے عنوان سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، جس کا ڈائری نمبر 59947/2025 اور ایس ایل پی (C) نمبر 30200/2025 ہے۔

فیصلہ آئینی اقدار کی بالادستی کا مظہر

اس معاملے میں اے پی سی آر (ا۔ پ۔ س۔ آر) کی نمائندگی کرنے والی قانونی ٹیم میں درج ذیل وکلاء شامل تھے جن میں ایڈوکیٹ وارشہ فراست، ایڈوکیٹ کے۔ چترویدی۔ ایڈوکیٹ ایم حذیفہ۔ ایڈوکیٹ زیبا آفرین اور یشونت سنگھ اور کے نام قابل ذکر ہیں۔ اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ نے اس فیصلے کو آئینی اقدار کی بالادستی اور اقلیتی مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ عدالت عظمیٰ نے ایک بار پھر انصاف، مساوات اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کا ثبوت دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read