نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی پیر کی شام وزرائے مملکت اور آزادانہ چارج والے وزرائے مملکت کے ساتھ ایک اہم جائزہ میٹنگ کریں گے۔ اس میٹنگ میں مختلف وزارتوں کے کام کاج، سرکاری منصوبوں کی پیش رفت اور وزرا کی انفرادی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ وزیر اعظم مودی کی یہ میٹنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب سیاسی حلقوں میں ممکنہ مرکزی کابینہ میں ردوبدل کی قیاس آرائیاں تیز ہیں۔ لُٹینز دہلی اور سیاسی گلیاروں میں اس میٹنگ کو محض انتظامی جائزے کے بجائے ممکنہ کابینہ ردوبدل کی تیاری کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
صرف منتخب محکموں سے وابستہ وزرا ہوں گے شامل
وزیر اعظم دفتر (PMO) کی جانب سے بلائی گئی اس میٹنگ کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں تمام وزرا کے بجائے صرف ان وزرائے مملکت کو مدعو کیا گیا ہے جن کے محکمے براہ راست سماجی، اقتصادی اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق منصوبوں سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق، تعلیم، سماجی انصاف و تفویض اختیارات اور زراعت جیسے اہم محکموں کے کام کاج کا تفصیلی جائزہ میٹنگ کے اہم ایجنڈے میں شامل ہوگا۔ وزیر اعظم مودی ہر وزیر سے ان کے محکمے میں ہونے والے کام اور زمینی سطح پر سرکاری منصوبوں کے اثرات کا براہ راست حساب لیں گے۔
مرحلہ وار تیار کیا جائے گا وزرا کا رپورٹ کارڈ
آج شام ہونے والی یہ میٹنگ مسلسل جاری رہنے والے جائزہ عمل کا پہلا مرحلہ سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں وزیر اعظم مودی دیگر محکموں کی ذمہ داری سنبھالنے والے وزرائے مملکت کے ساتھ بھی اسی طرح کی تفصیلی میٹنگیں کریں گے۔ حکومت کی جانب سے واضح پیغام ہے کہ سرکاری منصوبوں کی رفتار سست نہیں ہونی چاہیے اور انتظامیہ پر وزرا کی گرفت مضبوط ہونی چاہیے۔ اس جائزہ عمل سے یہ واضح ہوگا کہ کون سی وزارت اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور کہاں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔
کابینہ میں ردوبدل کی کیوں ہے آہٹ؟
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی کی یہ ’اکاؤنٹبلٹی آڈٹ‘ مرکزی حکومت میں ممکنہ ردوبدل یا توسیع کی بنیاد بن سکتی ہے۔ جو وزرا توقعات پر پورا نہیں اترے ہیں، ان کی ذمہ داری تبدیل کی جا سکتی ہے یا انہیں تنظیمی کام میں لگایا جا سکتا ہے۔ وہیں بہتر کارکردگی دکھانے والے نوجوان اور متحرک وزرائے مملکت کو بڑی اور آزادانہ ذمہ داریاں ملنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


