تصویر: پی ٹی آئی
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے ہفتہ کے روز الزام لگایا کہ بہار میں پولیس شراب پر پابندی کے قانون کا استعمال ریاست کے غریبوں کے ’’ذہنی اور معاشی استحصال‘‘ کے لیے کر رہی ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر نے دعویٰ کیا کہ نو سال قبل پہلی بار نافذ ہونے والے اس سخت قانون کی خلاف ورزی کرنے پر گرفتار کیے گئے ’’99 فیصد‘‘ لوگوں کا تعلق پسماندہ طبقے سے ہے۔
تیجسوی یادو نے کہا ’’اپریل 2016 میں شراب پر پابندی کے بعد سے ریاست میں اس ممانعت کی خلاف ورزی کے نو لاکھ سے زیادہ کیس درج کیے گئے ہیں۔ ان کیسز کے سلسلے میں 14 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جیل بھیجا گیا ہے۔ لیکن یہ قانون پولیس کے ہاتھ میں ایک آلہ بن گیا ہے، جو پولیس کم عمر افراد کا معاشی اور ذہنی طور پر استحصال کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ گرفتار ملزمان میں سے 99 فیصد قبائلی، دلت اور او بی سی سے متعلق ہیں۔ صرف ایک فیصد دیگر سماجی طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔‘‘
پولیس پر لگایا بھتہ خوری کا الزام
آر جے ڈی لیڈر نے یہ بھی کہا کہ ریاستی پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے شراب پر پابندی کے نفاذ کے بعد سے تقریباً چار لاکھ لیٹر شراب ضبط کی ہے۔ تیجسوی نے دعویٰ کیا ’’اس میں سے غیر ملکی شراب دو لاکھ لیٹر سے زیادہ ہے۔ غریب لوگ غیر ملکی شراب نہیں پیتے اور نہ ہی اس کا سودا کرتے ہیں۔ لیکن شراب کی تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کا شکار وہی ہو رہے ہیں۔‘‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’’ہم سب لوگوں کو نشہ آور اشیا کے استعمال سے روکنے کے لیے سرگرم ہیں۔ لیکن ریاست میں شرب کے اسمگلروں اور پولیس کے درمیان گٹھ جوڑ دیکھنے کو مل رہا ہے اور پولیس شراب پر پابندی کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے بھتہ خوری کا ریکٹ چلا رہی ہے۔ ہم اس سازش کو بے نقاب کرتے رہیں گے اور جب حکومت میں آئیں گے تو اسے درست بھی کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





