نئی دہلی: غالب اکیڈمی، نظام الدین ویسٹ میں مرزا اسداللہ خان غالب کی 157 ویں یوم وفات کے موقع پر چار روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے نامور اہلِ قلم، محققین، شعرا اور غزل گلوکاروں نے شرکت کی۔ 1969 میں حکیم عبدالحمید کے ذریعہ قائم کی گئی اس اکیڈمی کا افتتاح سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے کیا تھا، اور یہ ادارہ غالب کی یاد کو زندہ رکھنے کے ساتھ ساتھ اردو زبان و ادب کی ترویج میں مصروف ہے۔
غالب شناسوں کا اظہار خیال: “غالب کا شعر پہلے دماغ میں گھومتا ہے پھر دل میں جاتا ہے”
غالب کی فکری جہات پر سمینار
اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں منعقدہ یک روزہ سیمینار “ماضی قریب میں غالب کے ناقدین و محققین” کے موضوع پر منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈاکٹر جی آر کنول نے کی۔ انہوں نے کہا کہ غالب پر اردو اور فارسی کے بے شمار ناقدین و محققین نے کام کیا ہے اور غالب کا کلام زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
پروفیسر قاضی جمال حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “غالب کا تشخص ان کی مشکل پسندی میں مضمر ہے۔ ان کا شعر پہلے دماغ میں گھومتا ہے پھر دل میں اترتا ہے۔” انہوں نے گوپی چند نارنگ کی کتاب “غالب: معنی آفرینی، جدلیات، وضع سونیتا اور شعریات” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں بیدل پر بھی باب ہے، اور غالب نے طرزِ بیدل اختیار کیا لیکن مولانا فضل حق خیرآبادی کے مشورے پر آسان شاعری کی طرف راغب ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جہاں الفاظ کی رسائی معنی تک ممکن نہیں، غالب دنیا کی فکر نہیں کرتے۔”
پروفیسر شریف حسین قاسمی نے کہا کہ بیدل ہندوستان کے فارسی شعرا میں اہم ترین نام ہیں اور انہیں ایران، افغانستان اور ازبکستان میں بھی پذیرائی ملی۔ انہوں نے علامہ شبلی کے شعرالعجم میں غالب کے تذکرے کی عدم موجودگی پر بھی روشنی ڈالی۔

تحقیقی مقالات: قاضی عبدالستار کا ناول “غالب” تا جدید فکر کا معمار
محققین کی نئی نسل کی خدمات
پروفیسر معظم الدین نے قاضی عبدالستار کے ناول “غالب” پر مقالہ پیش کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ قاضی عبدالستار نے غالب کی زندگی کو اس دور کی تہذیبی فضا میں اشعار اور لطائف کی بنیاد پر ازسرِنو تخلیق کیا ہے۔ ڈاکٹر ابرار رحمانی نے امتیاز علی عرشی پر مقالہ پڑھتے ہوئے کہا کہ دیوان غالب “نسخۂ عرشی” اور دیوان مومن کی ترتیب کی وجہ سے عرشی ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
شاہد حبیب نے مالک رام کو غالب شناس کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غالب کی زندگی، تصانیف اور ادبی ماحول کو محفوظ کرکے آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔وسنت کالج فار ویمین، بنارس ہندو یونیورسٹی سے ریٹائرڈ، ڈاکٹر نفیس بانو نے نثار احمد فاروقی کا تحقیقی شعور اور تلاشِ غالب کے عنوان سے مقالہ پیش کیا، جبکہ ڈاکٹر حنا آفرین نے میر و غالب کو شمیم حنفی کی نظر میں پرکھا۔
ڈاکٹر شاداب تبسم نے خلیق انجم اور غالب کے خطوط پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خلیق انجم نے خطوطِ غالب کو چار جلدوں میں یکجا کیا اور ایک جلد میں جامع حواشی قلمبند کیے۔ پروفیسر علیم اشرف نے پروفیسر نذیر احمد کی غالب شناسی پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ غالب کی فارسی نثر اور دساتیری الفاظ کی فرہنگ کے بغیر غالب کی فارسی دانی کو سمجھنا مشکل ہے۔ سیمینار کی نظامت روزنامہ انقلاب دہلی کے ریزیڈینٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری نے کی، جبکہ ڈاکٹر عقیل احمد نے شکریہ ادا کیا۔

طرحی مشاعرہ: شعری وسیلوں سے غالب کو خراجِ تحسین
57 ویں یومِ تاسیس پر مشاعرہ
غالب اکیڈمی کی 57 ویں یوم تاسیس کے موقع پر شاندار طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں امریکہ سے آئے ڈاکٹر یوگیندر اپادھیائے (نسیم گورکھپوری)، ڈاکٹر جی آر کنول اور دیگر شعرا نے شمع روشن کرکے افتتاح کیا۔ نظامت کے فرائض ارشد ندیم نے انجام دیے۔
مشاعرے میں منتخب اشعار پیش کیے گئے:
• ڈاکٹر جی آر کنول:
“غیر ہاتھوں میں تھے پتھر مرے سر کے جانب / بے بسی یہ تھی کہ ان میں میرا ہمشیر بھی تھا”
• وقار مانوی:
“دل کے ٹکڑوں کو جو بیٹھا کبھی یکجا کرنے / انہیں ٹکڑوں میں یہ دیکھا کہ تیرا تیر بھی تھا”
• شہپر رسول:
“مشربِ شعر کے رندوں کو وہ اک پیر بھی تھا / سب پہ غالب تھا مگر معتقدِ میر بھی تھا”
ظفر مرادآبادی، متین امروہوی، علینا عترت، دویا جین، انجم جعفری، شفا کجگانوی، شعیب رضا فاطمی، شاہد انور، انمیش شرما، رمن مہدی، وفا اعظمی، ریتو استھانا روحی، عمران عظیم، معین شاداب، برہم پرکاش بھاردواج، جمیل مانوی اور فرمان چودھری نے بھی اپنے اشعار سنائے۔

ریسرچ اسکالر سیمینار: ڈیجیٹل دور میں غالب کی شناخت
نئی نسل کے محققین کا اجلاس
چہار روزہ تقریبات کے چوتھے دن ریسرچ اسکالر سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس سے قبل مزارِ غالب پر فاتحہ خوانی کی گئی۔ سیمینار کی صدارت پروفیسر شہپر رسول نے کی، جنہوں نے کہا کہ “غالب کی شاعری نے اردو شاعری کو انتہا تک پہنچایا۔” انہوں نے نئی نسل کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا سے غالب کی شہرت میں اضافہ ہوا ہے۔
ڈاکٹر جی آر کنول نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ “جب تک دنیا رہے گی، غالب رہیں گے۔ اردو آج ریسرچ اسکالرز کی وجہ سے زندہ ہے۔”
مقالات میں محمد اشرف (غالب کے یک موضوعی اشعار)، عذرا انجم (غالب اور ان کے معاصر شاعرات)، اسداللہ (غلام رسول مہر کی شرحِ نوائے سروش)، مجتبیٰ حسن صدیقی (رباعیاتِ غالب)، مصطفی علی (جامِ سفال کا غالب)، محمد رضوان (جدید فکر کا معمار)، شازیہ کوثر (غالب کے خطوط میں ہندوستانی عناصر)، توحید حقانی (ڈیجیٹل دنیا میں غالب کی شناسی) اور محمد فیصل خان (کلامِ غالب میں مضمون آفرینی و معنی آفرینی) شامل تھے۔ نظامت ڈاکٹر شاہد حبیب فلاحی نے کی۔

شامِ غزل: ڈاکٹر الاپتی سنگھ کی خصوصی پیشکش
غالب کی دس غزلیں نئے انداز میں
تقریبات کے سلسلے میں “شامِ غزل” کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں مشہور غزل سنگر ڈاکٹر الاپتی سنگھ نے غالب کی دس غزلیں نئے انداز میں پیش کیں۔ طبلے پر زرغام خان نے ان کا ساتھ دیا۔ ڈاکٹر الاپتی سنگھ کے اندازِ گائیکی اور آواز کو سامعین نے بے حد سراہا۔ اس موقع پر دہلی کی ممتاز علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں، جن میں ڈاکٹر جی آر کنول، شری کانت کوہلی، متین امروہوی، کمال الدین، انجلی سنگھ، ڈاکٹر دھننجے گپتا، ڈاکٹر ایلا گپتا، وینا استھانا، رگھوونش استھانا، پروفیسر انیربان پاٹھک، پروفیسر پاپیا پاٹھک، پروفیسر اندرانی، ڈاکٹر آلوک گئے چند، نینا کٹاریا اور بیگم اختر کی شاگرد اور دہلی کی معروف غزل سنگر ریکھا سوریہ نے خصوصی شرکت کی۔

معروف اینکر کشفی شمائل نے “شامِ غزل” کی نظامت کے فرائض انجام دیے، جبکہ آخر میں ڈاکٹر عقیل احمد نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر متین امروہوی، کمال الدین، شری کانت کوہلی، مظہر محمود، عبدالباری مسعود، مینک اسٹون صوفی، اکبر، ڈاکٹر ادریس احمد، اقبال مسعود فاروقی، پروین ویاس، ڈاکٹر محمد فرقان اور دیگر معززین کی موجودگی نے تقریبات کی رونق میں اضافہ کیا۔ غالب اکیڈمی کے صدر ڈاکٹر عقیل احمد نے بتایا کہ مستقبل میں بھی غالب کی فکر اور پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے ایسے پروگراموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ماضی قریب کے محققین اور ناقدین کی تصانیف نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور یہ تقریبات طلبہ و محققین کے لیے کارآمد ثابت ہوں گی۔”
https://www.youtube.com/live/W6jcfPFJLSc?si=mIrqmR3_7Fxp4RPB
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


