Bharat Express DD Free Dish

E100 Approved India: ای100 کا بڑا دھماکہ! کیا پٹرول کا کھیل ختم ہو جائے گا اور کسانوں کی لاٹری لگ جائے گی؟ نئی ایتھانول پالیسی منظور

سڑک ٹرانسپورٹ کے وزیر نیتن گڈکری نے 100 فیصد ایتھنول (E100) ایندھن کے استعمال کو قانونی منظوری دے دی ہے۔ اب بھارت میں ٹویوٹا، سوزوکی اور ہنڈائی جیسی کمپنیاں جلد ہی فلیکس فیول والی گاڑیاں لانچ کریں گی۔

بھارت کے ٹرانسپورٹ اور آٹوموبائل سیکٹر میں اب تک کا سب سے بڑا اور ‘تاریخی’ تبدیلی ہونے جا رہی ہے۔ اگر آپ بھی پٹرول کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں، تو یہ خبر آپ کے لیے ہے! سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کے وزیر نتن گڈکری نے ملک میں 100 فیصد ایتھنول یعنی E100 کو گاڑیوں کے ایندھن کے طور پر قانونی منظوری دے دی ہے۔ اب وہ دن دور نہیں جب آپ کی کار عرب ممالک سے آنے والے مہنگے پٹرول سے نہیں، بلکہ بھارتی کسانوں کے کھیتوں سے نکلنے والے 100فیصد خالص ‘بایو فیول’ سے تیزی سے دوڑے گی۔

ہفتہ کی رات 8 بجے سائن ہوئی فائل (ایتھنول بلینڈڈ پٹرول)

ناگپور میں این ڈی اے حکومت کے 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر نتن گڈکری نے یہ بڑا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ درآمد شدہ ‘فوسل فیول’ پر انحصار ختم کرنے کے لیے ہفتہ کی رات 8 بجے انہوں نے E100 کے استعمال کو قانونی منظوری دینے والی فائل پر دستخط کیے ہیں۔ گڈکری نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شروع میں جب میں یہ خواب بتاتا تھا تو کئی لوگ میرا مذاق اڑاتے تھے اور ہنستے تھے، لیکن آج یہ حقیقت بن چکا ہے۔

ٹويوٹا، سوزوکی اور ہنڈائی کی تیاری

اس منظوری کے بعد اب آٹوموبائل کمپنیوں کے لیے نئے راستے کھل گئے ہیں۔ گڈکری نے واضح کر دیا ہے کہ اگلے ایک سے ڈیڑھ ماہ کے اندر ٹويوٹا، ماروتی سوزوکی، ایم جی اور ہنڈائی جیسی بڑی کمپنیاں اپنی ‘فلیکس فیول’ گاڑیاں مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یعنی اب ایسے انجن بنیں گے جو 100فیصد ایتھنول پر بالکل آسانی سے چلیں گے۔

کسانوں کی ‘لاٹری’ اور عرب ممالک کی ٹینشن

اس فیصلے کا سب سے بڑا فائدہ براہِ راست بھارت کے کسانوں کو ہوگا۔ E100 ایندھن گنے، مکئی اور دیگر زرعی مصنوعات سے بنتا ہے۔ اس سے نہ صرف دیہی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ بھارت کا بھاری بھرکم ‘آئل امپورٹ بل’ بھی کافی حد تک کم ہو جائے گا۔ حکومت نے حال ہی میں E85 (85فیصد ایتھنول) ایندھن بھی لانچ کیا تھا اور پٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کا ہدف 2030 کے بجائے 2024 میں ہی حاصل کر لیا ہے۔

اب بس پمپ تیار ہونے کی باری

E100 کو منظوری تو مل گئی ہے، لیکن اب سب سے بڑا چیلنج پٹرول پمپس پر E100 کے لیے اسپیشل اسٹوریج ٹینک اور پائپ لائن بچھانے کا ہے۔ آئل کمپنیاں اس ‘گرین ریولوشن’ کے انفراسٹرکچر کو تیار کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ واضح ہے کہ بھارت اب تیل کے لیے دوسروں پر انحصار نہیں کرے گا، اور بہت جلد پٹرول پمپس پر آپ کو پٹرول-ڈیزل کے ساتھ ساتھ ایک نیا اور سستا E100 کا نوزل بھی نظر آئے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔