Bharat Express DD Free Dish

‘Zelenskyy, Putin HATE each other’: روس-یوکرین امن معاہدہ سے مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی ہونے کی امید، ٹرمپ کا بڑا دعوی

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین جنگ سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے امن کی راہ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں،قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ اب قریب نظر آ رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ باہمی کشیدگی کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور تصفیے کے امکانات مضبوط ہو چکے ہیں۔

ٹرمپ نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی روسی صدر ولادیمیرپوتن سے بات چیت ہوئی، جس کے دوران انہوں نے کیف اور دیگر یوکرینی شہروں پر حملے عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق شدید سرد موسم کے پیش نظر انہوں نے پیوٹن سے کہا کہ کم از کم ایک ہفتے کے لیے حملے نہ کیے جائیں، جس پر روسی صدر نے رضامندی ظاہر کی۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ یہ درخواست بے سود ہو گی، مگر پوتن نے اس پر عمل کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت خطے میں غیر معمولی سردی پڑ رہی ہے، جو عام سرد موسم سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اور روس دونوں ہی ریکارڈ توڑ سردی کی لپیٹ میں ہیں، جس کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے واشنگٹن میں پڑنے والی سردی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کا موسم بھی سخت ہے، مگر مشرقی یورپ میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہےکہ  ان بیانات کے باوجود زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات روسی ڈرون حملے میں جنوبی زاپوریزیا کے علاقے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس ایک اور بڑے حملے کی تیاری کر سکتا ہے، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ برقرار ہے۔ اسی دوران امریکہ کی ثالثی میں مجوزہ امن مذاکرات سے قبل روس نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ماسکو آنے کی دعوت دی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ماسکو کو ممکنہ مقام کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ پیشکش گزشتہ ہفتے ابو ظہبی میں روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان ہونے والی پہلی سہ فریقی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق حالیہ دنوں میں پس پردہ سفارتی رابطے تیز ہوئے ہیں اور امریکہ اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی روس اور یوکرین کے درمیان کسی معاہدے پر اتفاق ہو سکتا ہے، جو جاری جنگ کے خاتمے کی بنیاد بنے گا۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ دونوں رہنماؤں کے ذاتی تعلقات انتہائی خراب ہیں، لیکن عالمی دباؤ اور زمینی حالات انہیں مذاکرات کی میز پر لانے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کے بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ عالمی برادری بھی مسلسل جنگ بندی اور امن مذاکرات پر زور دے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read