امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین جنگ سے متعلق ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے امن کی راہ میں مشکلات پیش آ رہی ہیں،قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان سمجھوتہ اب قریب نظر آ رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ باہمی کشیدگی کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور تصفیے کے امکانات مضبوط ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی روسی صدر ولادیمیرپوتن سے بات چیت ہوئی، جس کے دوران انہوں نے کیف اور دیگر یوکرینی شہروں پر حملے عارضی طور پر روکنے کی درخواست کی تھی۔ ان کے مطابق شدید سرد موسم کے پیش نظر انہوں نے پیوٹن سے کہا کہ کم از کم ایک ہفتے کے لیے حملے نہ کیے جائیں، جس پر روسی صدر نے رضامندی ظاہر کی۔ ٹرمپ نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ یہ درخواست بے سود ہو گی، مگر پوتن نے اس پر عمل کیا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت خطے میں غیر معمولی سردی پڑ رہی ہے، جو عام سرد موسم سے کہیں زیادہ شدید ہے۔ ان کے مطابق یوکرین اور روس دونوں ہی ریکارڈ توڑ سردی کی لپیٹ میں ہیں، جس کی وجہ سے حالات مزید سنگین ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ نے واشنگٹن میں پڑنے والی سردی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کا موسم بھی سخت ہے، مگر مشرقی یورپ میں صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔
“I’ve ended 8 wars. All of them I thought were going to be maybe tougher than this one … but I think we’re getting very close to getting a settlement.” — President Trump on the Russia-Ukraine war pic.twitter.com/NhYfg5PoJN
— Department of State (@StateDept) January 30, 2026
قابل ذکر بات یہ ہےکہ ان بیانات کے باوجود زمینی حقائق اب بھی تشویشناک ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات روسی ڈرون حملے میں جنوبی زاپوریزیا کے علاقے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روس ایک اور بڑے حملے کی تیاری کر سکتا ہے، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ برقرار ہے۔ اسی دوران امریکہ کی ثالثی میں مجوزہ امن مذاکرات سے قبل روس نے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ماسکو آنے کی دعوت دی ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس یوکرین کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے ماسکو کو ممکنہ مقام کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یہ پیشکش گزشتہ ہفتے ابو ظہبی میں روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان ہونے والی پہلی سہ فریقی ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
