Bharat Express DD Free Dish

Xi Jinping Removed Generals: چینی صدر شی جن پنگ کا صفائی مہم! 3 سال میں 23 جنرل غائب، چینی فوج کے اعلیٰ کمانڈ میں ہلچل

چینی فوج میں اس وقت غیر معمولی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں ایسا کچھ ہوا ہے جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے 2023 تک اپنے قریب رہنے والے 23 جنرل اور ایڈمرلز کو ہٹا دیا ہے۔

بیجنگ: چینی فوج میں اس وقت غیر معمولی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ پچھلے تین سالوں میں ایسا کچھ ہوا ہے جو اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے 2023 تک اپنے قریب رہنے والے 23 جنرل اور ایڈمرلز کو ہٹا دیا ہے۔ یہ تمام افسران چینی فوج (پیپلز لبریشن آرمی ) کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات تھے۔ اب یہ یا تو غائب ہیں یا انہیں فوج سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اب صرف سات ایسے جنرل صدر شی جن پنگ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ باقی کے بارے میں کوئی حتمی معلومات دستیاب نہیں۔ فوج کی تاریخ میں اس نوعیت کی بڑی تبدیلی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ امریکی خفیہ اداروں کا ماننا ہے کہ شی جن پنگ اب بہت زیادہ شک کرنے لگے ہیں، جس کی وجہ سے پیپلز لبریشن آرمی کے اعلیٰ عہدوں پر خالی پن پیدا ہو گیا ہے۔ اس صورتحال سے فوجی قیادت میں عدم استحکام پیدا ہوا ہے اور بہت سے اہم عہدے خالی ہیں۔

شی جن پنگ نے 2016 میں فوج میں بڑا اصلاحاتی عمل بھی شروع کیا تھا۔ اس سے پہلے چینی فوج سات ملٹری ریجنز میں تقسیم تھی، جسے انہوں نے ختم کر کے پانچ تھیٹر کمانڈز میں بدل دیا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ہنگامی حالات میں فوج تیزی سے فیصلے کر سکے اور مختلف ڈیویژنز جیسے فوج، فضائیہ اور میزائل فورس ایک ساتھ کام کر سکیں۔ رپورٹس کے مطابق سب سے زیادہ افسران ساؤدرن تھیٹر کمانڈ، ویسٹرن اور ناردن تھیٹر کمانڈ سے ہٹائے گئے ہیں، جبکہ سینٹرل تھیٹر کمانڈ سے سب سے کم افسران نکالے گئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں کئی ایسے افسران بھی شامل ہیں جنہوں نے شی جن پنگ کو صدر بننے میں مدد دی تھی، لیکن اب انہیں بھی فارغ کر دیا گیا ہے۔ خاص طور پر وائس چیئرمین ژانگ یوکسیا کو ہٹایا گیا، جنہوں نے 2023 میں شی جن پنگ کی تیسری بار صدارت میں مدد کی تھی۔ ژانگ پر کمیونسٹ ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) اور پارٹی میں اختلافات پیدا کرنے کا الزام بھی ہے۔

اب صرف ایک جنرل ژانگ شینگمین سینٹرل ملٹری کمیشن میں باقی ہیں، جو صدر شی جن پنگ کے صفائی مہم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، ژانگ اب چینی صدر کے بعد سب سے طاقتور افسر بن چکے ہیں اور فوج میں جاری اصلاحات اور صفائی مہم میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ مہم چینی فوج میں شی جن پنگ کی طاقت کو مضبوط کرنے اور اعلیٰ قیادت میں اپنی گرفت مستحکم کرنے کے لیے ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read