وزیر اعظم نریندر مودی کے امریکی دورے کے دوران اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی اور ان کی کمپنی کے خلاف رشوت خوری کے الزامات کا معاملہ بھی چھایا رہا۔ جب پی ایم مودی سے پوچھا گیا کہ کیا صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اس معاملے پر کوئی بات چیت ہوئی ہے، پی ایم مودی نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے لیڈر ذاتی مسائل پر بات نہیں کرتے ہیں۔
پی ایم مودی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کر رہے تھے، ان سے گوتم اڈانی رشوت کیس کے بارے میں سوال پوچھا گیا کہ کیا اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے ساتھ کوئی بات چیت ہوئی ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا، ہندوستان ایک جمہوریت ہے اور وسودھیوا کٹمبکم ہماری ثقافت ہے اور ہم پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا، میں مانتا ہوں کہ ہر ہندوستانی میرا ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ رہنما کبھی بھی اس طر ح کے ذاتی مسائل پر بات نہیں کرتے ہیں۔
نومبر 2024 میں امریکہ میں شمسی توانائی کے معاہدوں کو حاصل کرنے کے سلسلے میں گوتم اڈانی سمیت، اڈانی انرجی کے اہلکاروں کے خلاف 2100 کروڑ روپے کی رشوت کے الزامات لگائے گئے تھے۔ ان پر امریکی عدالت میں رشوت دینے کا الزام تھا۔ جب گوتم اڈانی اور ان کے اہلکاروں پر یہ الزامات لگائے گئے تو امریکہ میں جو بائیڈن کی حکومت برسراقتدار تھی۔ لیکن صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے حکم سے محکمہ انصاف کے 50 سال پرانے قانون کو منسوخ کر دیا ،جس کے تحت گوتم اڈانی پر یہ الزامات لگائے گئے تھے۔
ان الزامات کے سامنے آنے کے بعداڈانی گروپ نے گوتم اڈانی اور اڈانی گرین کے ڈائریکٹرز کے خلاف امریکی محکمہ انصاف اور امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی طرف سے لگائے گئے رشوت خوری اور دھوکہ دہی کے الزامات کو واضح طور پر مسترد کر دیا تھا۔ گروپ کے ترجمان نے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف اور امریکی سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کی جانب سے اڈانی گرین کے ڈائریکٹرز کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں اور گروپ ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے، جیسا کہ محکمہ انصاف نے خود کہا ہے، “فرد جرم میں لگائے گئے الزامات محض الزامات ہیں، اور مدعا علیہان کو اس وقت تک بے قصور سمجھا جاتا ہے، جب تک کہ مجرم ثابت نہ ہو جائے۔”
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



