نئی دہلی : امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اگلے ہفتے ہندوستان کے ممبئی اور جام نگر کا دورہ کریں گے۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے یہ اطلاع دی ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس سے توانائی خریدنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے سے متعلق واشنگٹن کی مقررہ مدت قریب آ رہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری ایک میڈیا نوٹ کے مطابق، مارکو روبیو 17 سے 22 اکتوبر تک ازبکستان کے شہر سمرقند اور ہندوستان کے ممبئی و جام نگر کا دورہ کریں گے۔محکمہ خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ اس سال اپنے دوسرے سرکاری دورے پر ہندوستان آئیں گے۔ اس دوران وہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں سے ملاقات کریں گے، تاکہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ اور توانائی کے شعبے میں بہتر تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوگی۔میڈیا نوٹ میں مزید کہا گیا کہ مارکو روبیو کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تجارتی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
جام نگر میں ریلائنس کی بڑی ریفائنری
گجرات کا جام نگر شہر ریلائنس انڈسٹریز کے ریفائننگ مرکز کے لیے مشہور ہے۔ یہاں دنیا کے سب سے بڑے آئل ریفائننگ کمپلیکس میں سے ایک واقع ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ خارجہ نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا ہے کہ مارکو روبیو کے دورے میں جام نگر کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔
روسی تیل کی خریداری پر امریکہ کی نظر
مارکو روبیو کا دورۂ ہندوستان 18 اکتوبر کی مقررہ مدت کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔ یہ مدت گراہم ایکٹ کے تحت روسی توانائی خریدنے والے ممالک پر محصولات عائد کرنے سے متعلق بتائی گئی ہے۔ہندوستان 2022 سے روسی خام تیل کے بڑے خریداروں میں شامل رہا ہے۔ روس سے ہندوستان کی تیل کی خریداری کا معاملہ واشنگٹن کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل کشیدگی کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ایسے میں مارکو روبیو کے دورے کو توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اقتصادی تعلقات کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
وسطی ایشیائی ممالک کا بھی کریں گے دورہ
ہندوستان آنے سے پہلے مارکو روبیو ازبکستان کے شہر سمرقند میں سی 5 پلس 1 وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ ایک سفارتی پلیٹ فارم ہے، جس میں امریکہ اور وسطی ایشیا کے پانچ ممالک، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، روبیو ان پانچوں ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں اس بات کو اجاگر کیا جائے گا کہ سفارتی تعاون کے ذریعے امریکہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے زیادہ پُرامن اور خوشحال مستقبل کی راہ کیسے ہموار کی جا سکتی ہے۔محکمہ خارجہ نے مزید بتایا کہ اس تاریخی دورے کے دوران مارکو روبیو 200 سے زائد کاروباری رہنماؤں پر مشتمل امریکی تجارتی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس کا مقصد امریکہ اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارتی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
توانائی اور کواڈ پر بھی ہوگی توجہ
مارکو روبیو نے مئی میں ہندوستان کو ایک ’عظیم شراکت دار‘ قرار دیا تھا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ان کے دورۂ ہندوستان میں توانائی اور کواڈ سے متعلق امور پر توجہ مرکوز رہے گی۔ہندوستان اور امریکہ اپنے تعلقات کو ایک وسیع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری قرار دیتے ہیں، جس میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ روبیو کے آئندہ دورے کے دوران ان شعبوں میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے امکانات پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



