Bharat Express DD Free Dish

Democrats Win Majority in the Senate: سینیٹ میں ڈیمو کریٹس کو ملی اکثریت ، ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ملی شرم ناک شکست

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ساؤتھ کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم، جو سابق سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں، ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز سے ہار گئیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہیں سیاسی تجربے کی کمی سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسی طرح ٹیکساس میں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو نے شکست دی۔

نئی دہلی : امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بڑا سیاسی جھٹکا دیا ہے۔ ووٹروں نے منگل کے روز سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے حوالے کرکے ٹرمپ کی پالیسیوں اور ان کے حمایت یافتہ امیدواروں کو مسترد کردیا۔ انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں ٹرمپ نے جن ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کے لیے بھرپور مہم چلائی تھی، انہیں کئی اہم ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ڈیموکریٹک امیدواروں نے نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، آئیووا، ٹیکساس، ساؤتھ کیرولائنا اور کنساس میں ریپبلکن پارٹی کی پہلے سے حاصل نشستیں چھین لیں۔ ان میں کئی ایسے امیدوار شامل تھے جنہیں صدر ٹرمپ نے ذاتی طور پر منتخب کیا تھا یا انتخابی مہم کے دوران ان کی حمایت میں جلسے اور ریلیاں کی تھیں۔ان نتائج کو ٹرمپ کے لیے عوامی ناراضگی کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بار بار ووٹروں سے اپیل کی تھی کہ وہ ووٹ دیتے وقت یہ تصور کریں کہ ٹرمپ خود بھی امیدوار ہیں۔ وہ زیادہ تر قدامت پسند ریاستوں میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے پہنچے اور خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن میں ڈیموکریٹس اقتدار میں آگئے تو حالات بدل جائیں گے۔ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کو اپنی ذات سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق اپنی پالیسیوں کا بھی دفاع کیا، جن کے باعث اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔سینیٹ کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں آنے سے انہیں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔ اس کے علاوہ وہ کابینہ کے عہدوں اور تاحیات مدت کے لیے مقرر کیے جانے والے وفاقی ججوں کی نامزدگیوں کو بھی روکنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ان نتائج کے بعد امریکی سیاست کا مرکز کانگریس کی جانب منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے اختیارات پر قدغن لگانے کی کوشش کریں گے۔ اس سے قبل دو برس تک کانگریس میں ریپبلکن ارکان بڑی حد تک ٹرمپ کی پالیسیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔انتخابی نتائج نے ٹرمپ کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی ساکھ کو بھی بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے مشیروں اور کابینہ کے ارکان کے ساتھ انتخابی نتائج دیکھے۔ انہوں نے بار بار ووٹروں سے کہا تھا کہ وہ انہیں بھی امیدوار تصور کرکے ووٹ دیں، لیکن نتائج آنے کے تقریباً 24 گھنٹے بعد ہی انہوں نے شکست کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا شروع کردی۔

منگل کی رات سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے لکھا، ’’میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا اور اگر ہوتا تو ہم بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔‘‘

ریپبلکن امیدواروں کے انتخاب میں ٹرمپ کو ناکامی

ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں بھی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ساؤتھ کیرولائنا میں ریپبلکن امیدوار ڈارلین گراہم، جو سابق سینیٹر لنڈسے گراہم کی بہن ہیں، ڈیموکریٹک امیدوار اینی اینڈریوز سے ہار گئیں۔ انتخابی مہم کے دوران انہیں سیاسی تجربے کی کمی سے متعلق سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اسی طرح ٹیکساس میں ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو نے شکست دی۔ کین پیکسٹن پر بدعنوانی کے الزامات لگ چکے تھے اور ان کی نجی زندگی سے متعلق تنازعات بھی انتخابی مہم کے دوران موضوع بحث رہے۔ ان الزامات کے باعث ان کی اپنی پارٹی نے انہیں مواخذے کا سامنا بھی کروایا تھا۔ٹرمپ نے طاقتور موجودہ سینیٹر جان کورنن کے بجائے کین پیکسٹن کی حمایت کی تھی، کیونکہ ان کے خیال میں کورنن ان کی پالیسیوں کی کافی حمایت نہیں کرتے تھے۔ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کے باعث نارتھ کیرولائنا کے موجودہ ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے بھی دوبارہ انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس نشست کو ریپبلکن پارٹی کے پاس برقرار رکھنے کے لیے ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی مائیکل واٹلی کی حمایت کی، لیکن انہیں ڈیموکریٹک امیدوار رائے کوپر کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ٹرمپ کو وسط مغربی امریکہ کی دو ریاستوں میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور محصولات کی پالیسی کے اثرات نمایاں تھے۔ کنساس میں ڈیموکریٹک امیدوار ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن امیدوار راجر مارشل کو شکست دی، جبکہ دوسری ریاست میں ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن ڈیموکریٹ جوش ٹوریک سے ہار گئیں۔

ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے ووٹر ناراض

انتخابی مہم میں خود کو مرکزی موضوع بنانے کا فیصلہ ٹرمپ اور ان کی سیاسی ٹیم کے لیے ایک بڑا داؤ تھا۔ انہیں امید تھی کہ اس سے ان کے حامی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لیے باہر آئیں گے۔ تاہم ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں براہ راست شمولیت کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھا، کیونکہ ان کے مطابق اس سے ووٹروں کو ملک کی معاشی صورت حال کی ذمہ داری طے کرنے میں مدد ملی۔نیو جرسی سے ڈیموکریٹک سینیٹر اینڈی کم نے کہا کہ ٹرمپ کی خواہش تھی کہ ہر ووٹر انہیں بیلٹ پر موجود امیدوار کی طرح دیکھے، لیکن حقیقت میں ایسا ہی ہوا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ٹرمپ اور ان کی پالیسیوں سے پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اینڈی کم نے اس موسم خزاں میں آئیووا، جارجیا اور ٹیکساس سمیت کئی اہم انتخابی ریاستوں میں مہم چلائی تھی۔اے پی ووٹر پول کے مطابق، ملک بھر میں تقریباً دو تہائی ووٹروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کیا ہے۔ اس کے برعکس صرف تقریباً 30 فیصد ووٹروں نے کہا کہ ان پالیسیوں سے معاشی حالات بہتر ہوئے ہیں۔اسی طرح تقریباً دو تہائی ووٹروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی محصولات سے متعلق پالیسیوں نے قومی معیشت یا ان کے مقامی علاقوں کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

ٹرمپ کی قیادت اور ترجیحات پر بھی اٹھے سوال

سروے میں ٹرمپ کی مجموعی ترجیحات اور قیادت کی صلاحیتوں کے بارے میں بھی زیادہ تر ووٹروں کی رائے منفی سامنے آئی۔ نصف سے زیادہ ووٹروں کا کہنا تھا کہ ٹرمپ مضبوط رہنما نہیں ہیں، وہ ان جیسے عام لوگوں کے لیے کام نہیں کرتے اور ان کی ترجیحات درست نہیں ہیں۔سروے میں شامل نصف سے زیادہ ووٹروں نے ان کی قیادت کی ذہنی صلاحیت پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات میں ووٹروں کی معاشی تشویش اور ٹرمپ کی پالیسیوں سے متعلق ناراضگی انتخابی نتائج میں اہم موضوعات رہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read