امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ افغانستان میں واقع بگرام ایئربیس کو واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اس فوجی اڈے کو ’’اسٹریٹیجک طور پر انتہائی اہم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ چین کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے مراکز سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے۔ برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’’ہم بگرام ایئربیس واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں، یہ شاید تھوڑی سی بریکنگ نیوز ہو۔ ہمیں وہ بیس واپس چاہیے، کیوں کہ چین جہاں اپنے نیوکلیئر ہتھیار بناتا ہے، یہ بیس اس سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے۔‘‘ ٹولو نیوز کے مطابق امریکی کانگریس کے کئی اراکین نے ٹرمپ کے مؤقف کی حمایت کی ہے اور اسے ’’درست اور اسٹریٹیجک فیصلہ‘‘ قرار دیا ہے۔
چین اور افغان حکومت کا سخت ردعمل
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’چین افغانستان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام کو کرنا ہے۔ کسی بھی ملک کو خطے میں تصادم کی فضا پیدا کرنے کا حق نہیں۔‘‘ حالاں کہ افغان حکومت کی جانب سے باضابطہ ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا، تاہم افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ’’افغان سرزمین کا ایک انچ بھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ صدر ٹرمپ اور دیگر ملکوں کو یہ پیغام پہنچ جانا چاہیے۔‘‘
افغان وزارتِ خارجہ کے سیاسی شعبے کے اعلیٰ افسر ذاکر جلالی نے بھی دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’’افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔ دوحہ معاہدے میں بھی یہ بات طے ہو چکی ہے۔ البتہ سیاسی و اقتصادی تعاون کے دروازے کھلے ہیں۔‘‘ وہیں افغان سیاسی تجزیہ کار سید مقدم امین نے خبردار کیا کہ اگر زور زبردستی کی کوشش کی گئی تو افغان قوم اس کا بھرپور جواب دے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’’مذاکرات کے ذریعے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، لیکن طاقت کا استعمال خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جائے گا۔‘‘ دوسری جانب روس نے بھی حالیہ مہینوں میں امریکہ کے ممکنہ فوجی واپسی کے منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ایسی کوششیں خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


