امریکہ اور چین نے اپنی جاری تجارت جنگ میں 90 دن کے لیے جزوی طور پر ٹیرف معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی منڈیوں کے لیے ایک ممکنہ پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک نے دو روزہ مذاکرات کے بعد، جو سوئٹزرلینڈ میں ہوئے، ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ امریکہ نے چینی درآمدات پر 145 فیصد سے ٹیرف گھٹا کر 30 فیصد کر دیا، جبکہ چین نے امریکی مصنوعات پر 125 فیصد سے ٹیرف کم کر کے 10 فیصد کر دیا۔ یہ معطلی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی کشیدگی کو کم کرنے اور مزید مذاکرات کے لیے ایک نئے فریم ورک کے قیام کی کوشش ہے، جیسا کہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو “عظیم ترقی” قرار دیتے ہوئے اسے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر “ٹیرف کے حوالے سے مکمل ری سیٹ” کی طرف ایک قدم بتایا۔ تاہم، ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ معطلی عارضی ہے اور بنیادی تجارتی تنازعات ابھی تک حل نہیں ہوئے۔ چین کے وزارت تجارت نے کہا کہ وہ اس مدت کے دوران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن اس نے زور دیا کہ کوئی بھی حتمی معاہدہ “مساوات اور باہمی احترام” پر مبنی ہونا چاہیے۔ عالمی منڈیوں نے اس اعلان پر مثبت ردعمل دکھایا، کیونکہ سرمایہ کار طویل مدتی تجارت جنگ کے اثرات سے بچنے کی امید کر رہے ہیں۔
BREAKING: U.S. Announces China Trade Deal in Geneva pic.twitter.com/JjgvYAvAGe
— The White House (@WhiteHouse) May 11, 2025
اس معاہدے کے باوجود، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ پیش رفت محض ایک عارضی وقفہ ہو سکتی ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان تجارت کا دو طرفہ حجم تقریباً 600 بلین ڈالر پر منجمد ہے، اور چین کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ 295 بلین ڈالر تک برقرار ہے۔ ایکس پر پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ مبصرین اسے مکمل معاہدے کے بجائے مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی قدم سمجھتے ہیں۔ بیسنٹ نے کہا کہ دونوں فریقین مکمل معاشی انقطاع سے بچنا چاہتے ہیں، لیکن اگر 90 دن کے اندر کوئی ٹھوس معاہدہ نہ ہوا تو ٹیرف دوبارہ بڑھ سکتے ہیں۔
دونوں ممالک آئندہ 90 دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ معطلی ایک پائیدار معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ چین نے اپنی معاشی حکمت عملی کو متنوع بنانے کے لیے ایشیا اور یورپ میں اتحادیوں کے ساتھ رابطے بڑھائے ہیں، جبکہ امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ الگ الگ معاہدوں پر توجہ دے رہا ہے۔ اگرچہ اس اعلان نے عالمی معاشی استحکام کے لیے کچھ امید پیدا کی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان گہرے عدم اعتماد اور پیچیدہ جیو پولیٹیکل عوامل اب بھی چیلنجز ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معطلی سے فوری ریلیف مل سکتا ہے، لیکن مستقل حل کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


