یوکرین پر روس کے حملے کے تین سال مکمل ہونے اقوام متحدہ میں پیش کردہ اپنی ہی قرارداد پر ووٹنگ میں امریکہ نے حصہ نہیں لیا۔امریکہ کی جانب سے اپنی ہی پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ جنرل اسمبلی کی جانب سے امریکی قرارداد کی زبان کو یوکرین کی حمایت میں تبدیلی کرنے پر اتفاق کے بعد سامنے آیا۔روس نے سلامتی کونسل میں یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد میں ترمیم کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس میں ناکام رہا تھا۔بعد میں روس نے سلامتی کونسل میں یوکرین سے متعلق امریکی قرارداد میں ترمیم کی یورپی کوشش کو ویٹو کردیا۔دس ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جن میں روس، چین اور پاکستان بھی شامل ہیں جبکہ امریکہ،فرانس اور برطانیہ سمیت 5 ممالک غیرحاضر رہے، کسی ایک نے بھی مخالفت نہیں کی۔
قرارداد میں روسی فیڈریشن اور یوکرین کے درمیان تنازعہ کے دوران اموات پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کا مرکزی کردار عالمی امن اور تنازعات کے خاتمے کو ممکن بنانا ہے، اس طرح یوکرین کے معاملے پر امریکہ نے یورپ کی جگہ روس کو اتحادی بنالیا۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تنازعہ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور یوکرین اور روس کے درمیان دیرپا امن قائم کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے قیام کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اب تک 15 رکنی کونسل اس تنازعے پر کوئی کارروائی نہیں کر سکی تھی کیونکہ روس ایک ویٹو پاور ہے۔واضح رہے کہ امریکا نے اقوام متحدہ میں روس کے خلاف قرارداد کی مخالفت کی تھی، قرارداد میں روس کو یوکرین کی جنگ میں جارحانہ قرار دیا گیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



