واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر امریکی میڈیا سے ناراض نظر آئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی کارروائیوں کو جس طرح سے میڈیا میں دکھایا جا رہا ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ “فیک نیوز میڈیا” امریکی فوج کی کامیابیوں کو رپورٹ کرنا پسند نہیں کر رہا۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
ٹرمپ کا میڈیا پر حملہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ فیک نیوز میڈیا یہ بتانا پسند نہیں کرتا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف کتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران پوری طرح سے شکست کھا چکا ہے اور اب معاہدہ چاہتا ہے، لیکن ایسا معاہدہ نہیں، جسے میں تسلیم کروں گا۔
ایران کی شکست کا دعویٰ
امریکی صدر نے اس سے پہلے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ جنگی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میدان جنگ سے امریکہ کے لیے بہت اچھی خبریں آ رہی ہیں اور ایران تقریباً آخری مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے پاس نہ مؤثر بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی کوئی مضبوط دفاعی نظام باقی رہ گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس کنٹرول کا کوئی مؤثر نظام نہیں بچا اور امریکی افواج باآسانی کارروائیاں کر رہی ہیں۔
جنگ جلد ختم کرنے کی بات
ٹرمپ نے کہا کہ اب امریکہ اس تنازع پر پوری توجہ دے گا۔ ان کے مطابق سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ کو جیتنا ضروری ہے اور اسے جلد جیتنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کئی لوگ پہلے ہی سمجھتے ہیں کہ جنگ تقریباً جیت لی گئی ہے، صرف یہ سوال باقی ہے کہ اسے کب ختم کیا جائے۔
بجلی نظام تباہ کرنے کی دھمکی
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ صرف ایک گھنٹے میں ایران کی بجلی کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہے تو تہران سمیت کئی مقامات پر حملہ کر سکتا ہے، لیکن اگر ایسا کیا گیا تو ایران کے لیے اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایسا نہیں کرنا چاہتا، لیکن اگر ضرورت پڑی تو ایک گھنٹے میں ایران کے بجلی نظام کو ختم کیا جا سکتا ہے اور اسے دوبارہ بنانے میں ایران کو تقریباً 25 سال لگ سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
