شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان اور دیگر اعلیٰ حکام سے استنبول میں ملاقات کی، جبکہ مغربی ممالک نے شام پر عائد پابندیاں ختم کر دیں۔ یہ ملاقات دولماباہچے پیلس میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے ہاتھ ملایا اور سرکاری استقبالیہ کے بعد بات چیت کی۔اردوغان کے دفتر کے مطابق، ترک صدر نے الشرع کو بتایا کہ ترکی شام پر امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں کے خاتمے کا خیرمقدم کرتا ہے، جو شام کی تعمیر نو اور بحالی کے لیے اہم ہے۔ الشرع کے ہمراہ شام کے وزیر دفاع مرہف ابو قصرہ اور وزیر خارجہ اسعد الشعیبانی بھی تھے۔
یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو شام پر پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا، جو 14 سالہ خانہ جنگی کے بعد کیا گیا ایک اہم فیصلہ تھا۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے بھی اس ہفتے شام پر پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ پابندیاں، جو 1979 سے عائد تھیں، شام کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ کر رہی تھیں، اور ان کے خاتمے سے انسانی ہمدردی کی تنظیموں، غیر ملکی سرمایہ کاری اور تجارت کے لیے راہ ہموار ہو گی۔ الشرع نے اس فیصلے کو “تاریخی اور بہادرانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شامی عوام کے دکھوں کو کم کرے گا اور خطے میں استحکام لائے گا۔
احمد الشرع، جو حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کے سابق رہنما ہیں، نے دسمبر 2024 میں بشیر الاسد کی حکومت کا تختہ الٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ترکی کی بھرپور حمایت حاصل ہونے والے الشرع نے اس سے قبل فروری میں انقرہ کا دورہ کیا تھا، جو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد ان کا دوسرا غیر ملکی دورہ تھا۔ ترکی کی ویب سائٹ ٹی آر ہیبر اور ایکس پر پوسٹس کے مطابق، دونوں ممالک دفاعی اور فوجی معاہدوں پر بھی بات چیت کر رہے ہیں، جن میں شام میں ترکی کے فوجی اڈوں کی تعیناتی شامل ہے۔ ترکی شام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعمیر نو میں تعاون پر زور دے رہا ہے۔
اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو گہرا کرنے، شام کی تعمیر نو، اور خطے میں استحکام کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایردوان نے شام کو ایک مستحکم اور خوشحال ملک بنانے کے لیے ترکی کی حمایت کا وعدہ کیا، جبکہ داعش جیسے دہشت گرد گروہوں سے نمٹنے کے لیے تعاون پر بھی زور دیا۔ شام کی نئی قیادت نے پابندیوں کے خاتمے کو معاشی بحالی اور عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے، لیکن کچھ مبصرین کو خدشہ ہے کہ الشرع کی سابقہ جہادی پس منظر کی وجہ سے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



