سعودی عرب نے شام کے ساتھ 6.4 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جو کہ مملکت کی جانب سے جنگ سے تباہ حال ملک کے ساتھ اقتصادی طور پر دوبارہ روابط استوار کرنے اور اس کی تعمیر نو کی کوششوں کی حمایت کا ایک اہم قدم ہے۔یہ معاہدے، جو کہ رئیل اسٹیٹ، ٹیلی کمیونیکیشن اور فنانس جیسے شعبوں پر محیط ہیں، وزرات سرمایہ کاری کے وزیر خالد الفالح نے دمشق میں 24 جولائی کو منعقدہ شامی-سعودی سرمایہ کاری فورم کے دوران اعلان کیا۔یہ فورم سعودی عرب کے شام کے مالیاتی منظر نامے کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اپریل میں، مملکت نے قطر کے ساتھ مل کر عالمی بینک کے شام کے 15 ملین ڈالر کے قرض کی ادائیگی کی۔
الفالح نے کہاکہ اس فورم کے دوران، ہم 47 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط دیکھیں گے جن کی کل مالیت تقریباً 24 بلین سعودی ریال (6.4 بلین ڈالر) ہے۔ان معاہدوں میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں 1.07 بلین ڈالر شامل ہیں، جہاں شام کی وزارت مواصلات اور متعدد سعودی ٹیلی کام کمپنیوں کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنا ہے۔منصوبوں میں شامل کمپنیوں میں سعودی ٹیلی کام کمپنی، گو ٹیلی کام، ڈیجیٹل سیکیورٹی فرم ایلم، سائبر سیکیورٹی کمپنی سائفر، اور ایجوکیشن ٹیکنالوجی فرم کلیسرا شامل ہیں۔

رئیل اسٹیٹ اور انفراسٹرکچر سیکٹرز میں 2.93 بلین ڈالر کے معاہدوں کا اعلان کیا گیا، جن میں شام کی تعمیر نو کے لیے سعودی فنڈ سے چلنے والے تین نئے سیمنٹ پلانٹس کی تعمیر شامل ہے۔الفالح نے کہاکہ زرعی شعبے میں، ہم شام میں اعلیٰ معیار کے مشترکہ منصوبوں کو ترقی دینے کے لیے تعاون کے منتظر ہیں، جن میں ماڈل فارمز اور پروسیسنگ انڈسٹریز شامل ہیں۔فنانس میں، سعودی تداول گروپ اور دمشق سیکیورٹیز ایکسچینج کے درمیان فینٹیک سیکٹر میں تعاون بڑھانے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
یاد رہے کہ اس موقع سے الفالح نے سعودی-شامی بزنس کونسل کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ فورم کے دوران ایک الگ پینل بحث میں بات کرتے ہوئے، الفالح نے کہا کہ شام مسلسل چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مقام کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، “شام تمام تر چیلنجز کے باوجود سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ملک کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے نئے دور کے آغاز سے، ہم نے سعودی تاجروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کی حقیقی خواہش دیکھی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

