وزیر اعظم نریندر مودی آج 25 فروری کو اہم سرکاری دورے پر اسرائیل روانہ ہو رہے ہیں، جسے بھارت اور اسرائیل کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دور کی شروعات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران دفاعی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور خطے کی بدلتی جغرافیائی و سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دورہ محض سفارتی رسمی ملاقات نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی طاقتوں کے توازن پر اثر ڈالنے والا ثابت ہو سکتا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط تعلقات کو مزید وسعت دے گا۔ اس موقع پر مشترکہ سکیورٹی چیلنجز، دفاعی اشتراک اور دو بڑی جمہوریتوں کے درمیان مشترکہ وژن کو عملی شکل دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھارت کو ایسی حساس دفاعی اور سکیورٹی ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے جو اس سے قبل کسی دوسرے ملک کو نہیں دی گئی۔
اسرائیلی اسٹریٹجک ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم مودی کا یہ دورہ دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو خطے میں ایک نئے کثیر ملکی اتحاد کے قیام کے خواہاں ہیں، جس پر اس ملاقات کے دوران سنجیدہ گفتگو ہونے کی توقع ہے۔ مجوزہ اتحاد کو غیر رسمی طور پر ’ہیکساگون اتحاد‘ کہا جا رہا ہے، جس میں چھ ممالک کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت اسرائیل کو ٹیکنالوجی اور دفاعی تعاون کا مرکزی مرکز بنانے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے، جبکہ بھارت کو بحرِ ہند خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک رابطے کی اہم کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات ابراہیمی معاہدے کے بعد اسرائیل کا اہم عرب شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ یونان اور قبرص مشرقی بحیرۂ روم میں توانائی اور بحری تعاون کے اہم ستون سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ اس ممکنہ اتحاد کو سکیورٹی ضمانت اور وسیع اسٹریٹجک حمایت فراہم کر سکتا ہے۔
اسرائیل اور یو اے ای پہلے ہی مشرق وسطیٰ اور افریقی خطے خصوصاً ہارن آف افریقہ میں اقتصادی و سکیورٹی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں۔ بھارت، اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان قائم آئی2یو2 فریم ورک بھی علاقائی تعاون کی ایک مثال ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مجوزہ ہیکساگون اتحاد مغربی ایشیا سے یورپ اور بحرِ ہند تک پھیلا ایک بڑا سیاسی و دفاعی ڈھانچہ بن سکتا ہے۔
بھارت نے اب تک اس اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے کوئی باضابطہ موقف ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم امکان ہے کہ وزیر اعظم مودی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان ملاقات میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت اس اتحاد کا حصہ بنتا ہے تو یہ اسرائیل کے لیے بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی، کیونکہ غزہ تنازع اور فلسطینی مسئلے کے باعث کئی ممالک نے حالیہ برسوں میں اسرائیل سے فاصلہ اختیار کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس دورے کو بھارت کی ابھرتی عالمی سفارتی حیثیت اور اس کے بڑھتے دفاعی اثر و رسوخ کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے وقت میں خطے کی سیاست پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
