کہا جاتا ہے کہ پہاڑ چڑھنا مشکل نہیں ہوتا، مشکل اس کے سامنے کھڑے ہوکر پہلا قدم اٹھانا ہوتا ہے، لیکن کبھی کبھی یہی پہلا قدم آخری بھی ثابت ہوجاتا ہے۔ ایسا ہی افسوس ناک واقعہ پاکستانی کوہ پیما اور ڈاکٹر اسما مشتاق کے ساتھ پیش آیا، جو گلگت بلتستان میں واقع 7027 میٹر بلند اسپانٹک چوٹی، جسے گولڈن پیک بھی کہا جاتا ہے، سر کرنے کی مہم پر گئی تھیں۔ چوٹی فتح کرنے کے بعد واپسی کے دوران تقریباً 6250 میٹر کی بلندی پر ان کی اچانک موت ہوگئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زیادہ بلندی پر پہنچنے کے بعد آکسیجن کی شدید کمی، یعنی ہائپوکسیا، ان کی موت کی ممکنہ وجہ بتائی جارہی ہے۔ تاہم موت کی حتمی وجہ کی باضابطہ تصدیق متعلقہ حکام کی جانب سے کی جانی باقی ہے۔
لاش کو نیچے لانے کی کوشش، لیکن موسم بنا رکاوٹ
ڈاکٹر اسما مشتاق کی موت کی اطلاع ملنے کے بعد ان کی لاش کو پہاڑ سے نیچے لانے کے لیے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔ پاکستانی اخبار ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق چھ افراد پر مشتمل ایک امدادی ٹیم کیمپ-2 تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ ٹیم نے کیمپ-3 کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران علاقے میں شدید بارش اور برفباری شروع ہوگئی۔ موسم انتہائی خراب ہونے کے باعث ریسکیو ٹیم کو اپنی کوشش روک کر دوبارہ بیس کیمپ واپس آنا پڑا۔ حکام کے مطابق مسلسل برفباری اور تیز ہواؤں نے علاقے میں حالات کو انتہائی خطرناک بنا دیا ہے۔
شدید برفباری اور تیز ہواؤں سے حالات خراب
بالٹستان ڈویژن کے کمشنر کمال خان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسپانٹک چوٹی کے علاقے میں مسلسل شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے باعث ریسکیو آپریشن کو آگے بڑھانا انتہائی خطرناک ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امدادی ٹیم کو فی الحال بیس کیمپ واپس لوٹنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق 6000 میٹر سے زیادہ بلندی سے کسی لاش کو نیچے لانا انتہائی مشکل اور خطرناک کام ہوتا ہے۔ بلند پہاڑوں پر موسم کی اچانک تبدیلی، برفانی طوفان، کم آکسیجن اور دشوار گزار راستے ریسکیو ٹیموں کے لیے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔
کئی کوہ پیماؤں کی لاشیں پہاڑوں پر رہ جاتی ہیں
دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر ایسے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جہاں حادثات میں جان گنوانے والے کوہ پیماؤں کی لاشوں کو انتہائی بلندی اور خطرناک حالات کے باعث نیچے نہیں لایا جاسکا۔ ایورسٹ اور کے ٹو جیسے بلند پہاڑوں پر ایسے علاقے موجود ہیں جنہیں ’ڈیتھ زون‘ کہا جاتا ہے۔ ان علاقوں میں آکسیجن کی کمی انسانی زندگی کے لیے انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔
برطانیہ میں ڈاکٹر تھیں اسما مشتاق
ڈاکٹر اسما مشتاق کا تعلق بنیادی طور پر لاہور سے تھا اور وہ برطانیہ میں ماہر امراضِ نسواں و زچگی کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ طب کے پیشے کے علاوہ انہیں بلاگنگ اور کوہ پیمائی کا بھی شوق تھا۔ وہ اس سے قبل بھی کئی بلند چوٹیوں کو سر کرچکی تھیں اور اپنی کوہ پیمائی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتی رہتی تھیں۔ اسپانٹک چوٹی کی کامیاب مہم کے بعد ان کی موت نے کوہ پیمائی کی دنیا کو غمزدہ کردیا ہے۔ اب خراب موسم کے باعث ریسکیو آپریشن رکنے سے ان کی لاش کو نیچے لانے کا عمل بھی مزید مشکل ہوگیا ہے۔ امدادی ٹیمیں موسم بہتر ہونے کا انتظار کررہی ہیں تاکہ دوبارہ کارروائی شروع کی جاسکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


