Bharat Express DD Free Dish

Pakistan’s strict action against Afghan refugees: پاکستان کی سخت کارروائی جاری، ایک ہی دن میں 852 افغان خاندانوں کو کر دیا ڈی پورٹ

افغانستان کی عبوری حکومت بارہا افغان مہاجرین سے بیرون ملک پناہ گزینوں کے طور پر رہنا بند کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ وہ بیرون ملک مقیم افغانوں سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ وطن واپس آکر جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالیں۔

افغان مہاجروں کے خلاف پاکستان کی سخت کارروائی جاری

کابل: حکومت پاکستان افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھیجنے کے لیے اپنی کارروائی تیز کرتی جا رہی ہے۔ اتوار کے روز پاکستانی ایجنسیوں نے کل 852 افغان خاندانوں کو بے ڈی پورٹ کر دیا افغانستان واپس جانے والوں کے مسائل حل کرنے کے لیے قائم ہائی کمیشن نے پیر کے روز بتایا کہ 852 خاندانوں میں 4,567 ارکان شامل ہیں۔ کمیشن نے کہا کہ پاکستان نے ہفتے کے روز کل 6500 افغان مہاجرین کو ڈی پورٹ کیا تھا۔

خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم بارڈر کراسنگ پر کمیشن نے واپس جانے والوں کے لیے عارضی پناہ گاہیں، خوراک، پانی، طبی دیکھ بھال اور نقل و حمل کی خدمات فراہم کیں۔ پاکستانی حکومت 2025 تک تیس لاکھ افغان باشندوں کو ان کے ملک واپس بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

بیرون ملک مقیم ہیں قریباً 70 لاکھ افغان مہاجرین 

اطلاعات کے مطابق تقریباً 70 لاکھ افغان مہاجرین، جن میں سے زیادہ تر کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔ اس وقت بیرون ملک مقیم ہیں۔ زیادہ تر افغان پڑوسی ممالک پاکستان اور ایران میں مقیم ہیں۔

  افغانستان کی عبوری حکومت کرتی رہی ہے یہ اپیل

افغانستان کی عبوری حکومت بارہا افغان مہاجرین سے بیرون ملک پناہ گزینوں کے طور پر رہنا بند کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔ وہ بیرون ملک مقیم افغانوں سے اپیل کر رہی ہیں کہ وہ وطن واپس آکر جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں اپنا حصہ ڈالیں۔

  زبردستی ملک بدری پر افغانوں نے کیا کہا؟

زبردستی ملک بدر کیے گئے افغانوں نے بتایا کہ انہیں پاکستانی پولیس نے کام کرنے کے دوران گرفتار کر لیا اور پھر اپنے کاروبار اور خاندان کے افراد کو چھوڑ کر افغانستان بھیج دیا گیا۔

 جانچ کے دائرے میں پاکستان کی ملک بدری کی پالیسی

پاکستان کی ملک بدری کی پالیسی جانچ کے دائرے میں آ گئی، کئی بین الاقوامی تنظیموں نے اس عمل کی مذمت کی۔ انہوں نے افغانستان میں غیر یقینی صورتحال کے درمیان مہاجرین کی واپسی پر ان کے سامنے آنے والے سنگین خطرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read