پاکستان اپنی حرکتوں پر بدستور بضد ہے اور بھارت اسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بار بار بے نقاب کرتا ہے۔ ہندوستان نے ایک بار پھر اقوام متحدہ میں پاکستان کو “دہشت گردی، تشدد، انتہا پسندی، عدم برداشت اورانتہا پسندی کا بنیادی ذریعہ” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان فوری طور پر کشمیر کے اس حصے میں “سنگین اور مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں” کو روکے۔
کیرالہ سے ریوولیوشنری سوشلسٹ پارٹی (RSP) کے ایم پی این کے پریم چندرن نے جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے ڈی کالونائزیشن کو بتایا، “پاکستان دہشت گردی، تشدد، جنونیت، عدم برداشت اور انتہا پسندی کا اڈا ہے۔ اس سال اپریل میں پاکستان کے تربیت یافتہ اور اسپانسر شدہ دہشت گردوں نے پہلگام، جموں اور کشمیر میں 26 بے گناہ شہریوں کو ہلاک کیا۔”
پاک فوج نے 12 افراد قتل کردیا تھا
ان کا مزید کہنا تھا کہ “گزشتہ چند ہفتوں میں، پاکستانی فوج اور اس کے حامیوں نے اپنے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے لیے احتجاج کرنے والے بے شمار بے گناہ شہریوں کو قتل کیا ہے۔” قابل ذکر ہے کہ پاکستانی فوج نے مظاہروں کو دباتے ہوئے 12 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
گزشتہ ہفتے کمیٹی میں ہندوستان اور کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، پریم چندرن نے کہا کہ ان تبصروں کا تعلق چوتھی کمیٹی کے کسی مینڈیٹ یا ایجنڈے سے متعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : بدل سکتا ہے این ڈی اے کا سیٹ شیئرنگ فارمولہ، کیا چراغ پاسوان اپنے کوٹے سے ایک سیٹ چھوڑ دیں گے؟
جموں و کشمیر ہندوستان کا اہم حصہ ہے
انہوں نے کہا کہ “یہ ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا ملک جو دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے لیے عالمی سطح پر بدنام ہے، دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، پاکستان جیسا ملک جس کی طویل تاریخ فوجی آمریت، جعلی انتخابات، مقبول منتخب رہنماؤں کی گرفتاریوں، مذہبی انتہا پسندی اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی ہے، اسے مستقبل میں اس پلیٹ فارم سے باز رہنا چاہیے۔” پریما چندرن نے دہرایا، “جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ اور لازم و ملزوم حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔”
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



