ایران اور امریکہ کے درمیان جاری فوجی کشیدگی تیسرے روز میں داخل ہو گئی ہے۔ اسی دوران ایران نے پاکستان پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد نے واقعی امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے تو اسے ’’بھاری قیمت‘‘ چکانا ہوگی۔ ایرانی پاسداران انقلاب (ریوولوشنری گارڈ) کے ایک سینئر کمانڈر کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، جس کے نتیجے میں ایران میں شدید حملے ممکن ہوئے۔ ایران کی جانب سے کہا گیا کہ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو پاکستان بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
ماضی میں بھی کشیدگی
یہ پہلا موقع نہیں جب ایران نے پاکستان پر عدم اعتماد یا پس پردہ حمایت کے الزامات عائد کیے ہوں۔ جنوری 2024 میں ایران نے صوبہ بلوچستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم جیش العدل کے ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے تھے، یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان عناصر کو پاکستانی سرزمین پر پناہ دی جا رہی ہے۔ جواباً پاکستان نے ایران میں موجود بلوچ لبریشن آرمی کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔
ایران میں تازہ صورتحال
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین دنوں کے دوران اسرائیل اور امریکہ کی افواج نے ایران میں ایک ہزار سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں سیکڑوں افراد کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے بھی اسرائیل پر میزائل حملے کیے، جن میں ایک درجن سے زائد افراد کے مارے جانے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
خلیجی ممالک پر حملوں کا دعویٰ
پیر کے روز ایران کی جانب سے چار خلیجی ممالک کویت، بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر حملوں کا دعویٰ بھی سامنے آیا۔ کویت میں امریکی لڑاکا طیاروں کے گرنے کی اطلاعات پر امریکہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے کویتی فضائی دفاعی نظام کی ’’فرینڈلی فائر‘‘ کا شکار ہوئے، کیونکہ انہیں دشمن طیارہ سمجھ لیا گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق تمام پائلٹ محفوظ ہیں۔ موجودہ صورتحال نے پورے خطے میں غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے اور عالمی برادری کی توجہ ایک ممکنہ وسیع تر علاقائی تصادم کے خدشات پر مرکوز ہو گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



