Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ٹرمپ نے کہا کہ 14 جون کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے نے ان تمام مقاصد کو پورا کیا جنہیں امریکہ حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کا خاتمہ، عالمی تجارت کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران کے جوہری عزائم کو محدود کرنا اس معاہدے کے بنیادی نکات ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا مذاکرات کا بنیادی مقصد ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ جوہری مواد سے متعلق خدشات اپنی جگہ، لیکن اصل تشویش یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔

امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی فنڈنگ فراہم کرنے پر متفق ہوئے ہیں، دونوں ممالک اقتصادی اور مالی پابندیوں کے خاتمے کے لیے فوری بات چیت شروع کریں گے۔

فرانس میں اہم سفارتی پیش رفت، دونوں ممالک نے تنازع کم کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے، جنیوا میں مزید بات چیت کا امکان برقرار۔

امریکی صدر نے وزیراعظم مودی کی بھارت اور بھارت-امریکہ تعلقات کے لیے وابستگی کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ مودی بھارتی عوام سے محبت کرتے ہیں اور امریکہ کے لیے بھی احترام اور خیرسگالی رکھتے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے انتونیو کوسٹا اور ارسولا فان ڈیر لیئن کے ساتھ اپنی ملاقات کو انتہائی شاندار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران اقتصادی تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون موجودہ عالمی حالات میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں پر ٹرمپ کی تعریف کی ہے،  اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور بحری کارکنوں کی حفاظت پر زور دیا ہے۔

امریکہ-اسرائیل کی ایران سے کئی ماہ سے چل رہی جنگ کے کئی مقاصد تھے، لیکن سب سے اہم تھا کہ اسلامی حکومت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور تہران کو نیوکلیئر ہتھیار بنانے سے روکا جائے، لیکن اب اس سے متعلق بھی کئی اہم سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جی-7 سربراہی اجلاس کے دوران جرمنی کے چانسلر فریڈرش مرز کے ساتھ ہونے والی ملاقات کو انتہائی مثبت قرار دیا۔ دونوں لیڈروں کے درمیان بھارت اور جرمنی کے دوطرفہ تعلقات کو نئی رفتار دینے، اقتصادی تعاون بڑھانے، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔

علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ اسپتال انتظامیہ ماضی میں بھی عمران خان کی صحت سے متعلق مشکوک دعوے کرتی رہی ہے۔ ان کے مطابق پہلے یہ کہا گیا تھا کہ عمران خان کی 90 فیصد بینائی بحال ہو چکی ہے، جبکہ خود عمران خان نے ان دعوؤں کی تردید کی تھی۔