Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

آیت اللہ خامنہ ای نے حزب اللہ کے سابق چیف  کے بارے میں کہا کہ سید حسن نصر اللہ کا جسدِ خاکی تو چلا گیا لیکن ان کا حقیقی کردار، ان کی روح، ان کا انداز اور ان کی آواز آج بھی ہمارے درمیان ہے اور رہے گی۔ وہ ظالم اور شکاری شیطانوں کے خلاف مزاحمت کا بلند پرچم تھے۔

کورین سنٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق اس وقت کم جونگ اپنے ملک کی جوہری طاقت کو بہت بلندی پر لے گئے ہیں۔ حال ہی میں ایک رپورٹ آئی تھی جس کے مطابق شمالی کوریا نے بڑی تعداد میں میزائل نصب کر رکھے ہیں جن کا ہدف جنوبی کوریا اور امریکی فوجی اڈے ہیں۔

لبنانی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے سبب لاکھوں لبنانی محفوظ مقام پر منتقلی کے لیے اس شاہراہ کا استعمال کرتے تھے۔دوسری جانب اسرائیل ڈیفنس فورسز نے گزشتہ روز لبنانی مسلح گروپ حزب اللّٰہ پر فوجی ساز و سامان کو لبنان میں لے جانے کے لیے کراسنگ کا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔

نصراللہ نے 1992 سے اس عسکری گروپ کے سربراہ کا عہدہ سنبھالا تھا، اس گروپ کے سابق سربراہ عباس الموسوی کی اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاکت کے بعد انہوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تھی۔ ان کی قیادت میں، حزب اللہ لبنان میں ایک سیاسی قوت کے طور پر پروان چڑھی۔

جانسن کے اس الزام پر بنجامن نیتن یاہو نے براہ راست کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اسرائیل ہمیشہ اپنے دوستوں کے ساتھ شفافیت اور اعتماد کے ساتھ کام کرتا ہے لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ آیا انہوں  نے اس معاملے کی تحقیقات کا منصوبہ بنایا تھا یا نہیں۔ نیتن یاہو کا یہ ردعمل جانسن کے الزامات کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے۔

یہ ان کا گزشتہ پانچ سالوں میں پہلا خطبہ جمعہ ہوگا ۔ اس سے قبل انہوں نے پاسداران انقلاب کے سپہ سالار قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد خطبہ دیا تھا جس کو پانچ سال مکمل ہوگئے اور اب یہ دوسرا خطبہ ہوگا جو اسرائیل پر تازہ ترین حملہ اور حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اسرائیلی حکام نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انہوں نے حملے میں کئی دوسرے لوگوں کو نشانہ بنایا، جن میں ہاشم سیف الدین بھی شامل ہیں، جو حزب اللہ کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ کے طور پر گروپ کی سیاسی کارروائیوں کی نگرانی کرتے

حماس کے سیاسی دفتر کے سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سامح السراج بھی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ فوج کے مطابق روحی مشتھی کو حماس کے اہم رہنما یحییٰ سنوار کا قریبی سمجھا جاتا تھا،

یورپ پہلے ہی اپنی توانائی کی ضروریات میں کمی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، اور اگر مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس کی سپلائی منقطع ہو جاتی ہے تو اسے سنگین چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہودی ریاست کی جانب سے لبنان میں زمینی فوجی آپریشن کے اعلان کے بعد اسرائیل پر ایران نے حملہ کیا تھا۔ 23 ستمبر سے اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے تیز کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لبنانی تنظیم حزب اللہ کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔