Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی غزہ اور لبنان پر اسرائیلی حملوں کو رکوانے کی کوششوں پر بات چیت کے لیے بدھ کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے۔سعودی الاخباریہ چینل نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی فوٹیج نشر کی ہے، جو ریاض میں ایرانی وزیر اور ان کے وفد کا استقبال کر رہے ہیں۔

فرانسیسی وزیر داخلہ  نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پرایک پوسٹ میں لکھا،'' مسٹر بن لادن ، جو کئی سالوں سے  ایک برطانوی نژاد اہلیہ کے شوہر کی حیثیت سے ایک پہاڑی پر آباد ''اورن‘‘ کے علاقے میں مقیم تھے۔

شام کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’وحشیانہ جرم‘‘ اور بین الاقوامی قوانین کی ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’غیر مسلح شہریوں کے خلاف یہ وحشیانہ جرم فلسطینیوں اور لبنانی عوام کے خلاف کی جا رہی نسل کشی کا ہی سلسلہ ہے۔‘‘

وزیر دفاع کم نے پارلیمانی آڈٹ سیشن کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ ’’چونکہ روس اور شمالی کوریا نے ایک فوجی اتحاد کی طرح ایک باہمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس لیے اس طرح کی تعیناتی کا امکان بہت زیادہ ہے۔‘‘

حماس حملے کے ایک سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 7 اکتوبر2023 کے حملے کی برسی پربیشترمغربی میڈیا کی کوریج حماس کے حملے میں ہوئی اموات اورا یرغمالیوں پرہی مرکوزہیں۔

الفشار میں سوڈانی مسلح افواج (SAF) اور RSF کے درمیان 10 مئی سے لڑائی جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شہر میں بے گھر افراد کے لیے تین کیمپ ہیں، جن میں ابو شوک بھی شامل ہے، جس میں تقریباً 15 لاکھ افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے 800,000 اندرونی طور پر بے گھر ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا، ’’لبنان کے لوگوں، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ اپنے ملک کو حزب اللہ سے آزاد کرو، تاکہ یہ جنگ ختم ہو۔ حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کا حملہ گزشتہ 3 ہفتوں سے جاری ہے۔

یرغمالیوں کے بارے میں عبیدہ نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے اپنے بندیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا تھا لیکن نیتن یاہو کے عزائم نے ان کی واپسی کو ایک سال تک روک دیا۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ یرغمالیوں کی قسمت اب اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر منحصر ہے۔ اگر اسرائیلی فوج پیش قدمی کرتی ہے تو ان کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ادھر یہ خبر بھی ہے کہ اسرائیل ایران کے میزائل حملوں کا جواب دینے کے لیے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران کی تیل تنصیبات پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

یران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر غالباف نے بھی اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس کے علاوہ  انہوں نے  امریکہ کو گھیرنے کی کوشش کی۔