Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

شام میں صدر بشارالاسد کے بھاگنے اوران کے طیارہ کے تباہ ہونے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بشارالاسد ہفتہ کے روز دمشق سے ایک طیارہ میں سوارہوکرایک خفیہ جگہ کے لئے روانہ ہوئے ہیں۔

دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ شام میں باغیوں کو غالب نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ ایران نے فریقین سے مذاکرات کی اپیل کردی ۔ ترکیہ نے بھی جنگ خاتمےکے لےلیے بات چیت پر زور دیاہے۔

شام میں باغیوں نے اپنا کنٹرول کر لیا ہے۔ باغیوں نے اتوار (8 دسمبر 2024) کو دارالحکومت دمشق اور سرکاری ٹی وی نیٹ ورک پر قبضہ کر لیا۔ روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے صدر بشار الاسد طیارے میں سوار ہو کر نامعلوم منزل کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب قطر میں ہونے والے دوحہ فورم کا مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔اعلامیے کے مطابق قطر، سعودی عرب، اردن، مصر، عراق، ایران، ترکیے اور روس نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ شام کی موجودہ صورتحال علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیےخطرناک ہے۔

جیش محمد کے سربراہ کے خلاف وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اس کے پاکستان میں ہونے کی بات سے انکارکیا جا رہا ہے۔

جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی صدارت والے ٹریبیونل نے بنگلہ دیش ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آرسی) کوہدایت دی کہ شیخ حسینہ کی اس طرح کی تقاریرکی موجودہ اورماضی کی مثالوں کو تمام پلیٹ فارم سے ہٹا دیں۔ 

حال ہی میں فرانسیسی اخبار ’میڈیا پارٹ‘ کی جانب سے او سی سی آر پی پر جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ امریکی حکومت سے متاثر ایک تنظیم ہے۔ ’دی ہڈین لنکس بٹوین جائنٹ آف انویسٹی گیٹو جرنلزم اینڈ یو ایس گورنمنٹ‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس تنظیم کو جو بائیڈن کی سربراہی میں امریکی حکومت سے کافی مالی مدد ملی ہے۔

جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی میں ٹریبونل نے بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آر سی) کو ہدایت کی کہ حسینہ کی اس طرح کی تقاریر کی موجودہ اور ماضی کی مثالیں تمام پلیٹ فارمز سے ہٹا دیں۔

پوتن نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کی قیادت اپنے مفادات کو ترجیح دینے کی پالیسی پر مرکوز ہے۔ روسی صدر نے کہا، "وزیر اعظم مودی کا بھی میک ان انڈیا کے نام سے ایک ایسا ہی پروگرام ہے۔

صدر یون سک یول نے منگل کی رات (3 دسمبر) کو اچانک مارشل لاء نافذ کرنے کا حکم دے دیا، جس سے پورے ملک میں تناؤ کا ماحول پیدا ہو گیا۔