Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا:"بدقسمتی سے آج رات آنے والے زلزلے کے باعث ہمارے کچھ مشرقی صوبوں میں جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔

پی ایم مودی نے تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے دوران مالدیپ کے صدر محمد معزو سے بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مالدیپ کے ساتھ ہندوستان کا ترقیاتی تعاون ہمارے لوگوں کے لئے انتہائی فائدہ مند ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ نے 50 منٹ تک بات چیت کی۔ دو طرفہ بات چیت میں کیلاش مانسروور یاترا، سرحدی معاہدے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کشیدگی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہاتھ ملا کر آگے بڑھنا چاہئے۔ چین کی ہائی ٹیکنالوجی دنیا بھر میں مشہور ہے اور اس میں ہم تعاون کر سکتے ہیں۔ ژانگ شیاو کے مطابق ایس سی او سربراہی اجلاس بھارت اور چین کے تعلقات مزید مضبوط کرنے کا اچھا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

’نیو یارک ٹائمز‘ کی رپورٹ میں دعویٰ، امریکی صدر کا دورۂ ہند منسوخ، دونوں حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

’’چین اور ہندوستان مشرق کی دو قدیم تہذیبیں ہیں۔ ہم دنیا کے دو سب سے زیادہ آبادی والے ممالک اور گلوبل ساؤتھ کے اہم اراکین ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اپنے عوام کی فلاح، ترقی پذیر ممالک میں یکجہتی و بیداری، اور انسانی معاشرے کی پیشرفت کو فروغ دیں۔‘‘

اس اہم ملاقات میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر (NSA) اجیت ڈووال بھی شریک تھے، جس سے اس بات کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ سیکیورٹی اور اسٹریٹیجک امور بھی ایجنڈے میں شامل تھے۔

گلوان جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ سرحد پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، اور براہ راست پروازیں بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ چین نے کئی سال بعد پہلی بار کالاش مانسروور یاترا کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔

یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے (بھارتی وقت کے مطابق صبح 9:30 بجے) طے ہے اور اس کے لیے 40 منٹ کا وقت مخصوص کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔

امریکہ کا الزام ہے کہ بھارت روسی خام تیل خرید کر ماسکو کو اقتصادی مدد فراہم کر رہا ہے، اور اس طرح بالواسطہ طور پر یوکرین جنگ کو "ایندھن" فراہم کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔