Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ چین کے تیانجن میں منعقدہ SCO سمٹ میں رکن ممالک نے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے حملوں کے ذمہ داروں، منصوبہ سازوں اور سرپرستوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اب دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تنظیم بن چکی ہے۔ اس کی رسائی اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے اور رکن ممالک کے درمیان اتحاد مضبوط ہوا ہے۔

صدر پوتن نے مودی کے ساتھ ملاقات کو "خوشگوار" قرار دیا اور کہا:"ہمارے تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ ہم اپنے تمام مشترکہ اقدامات کو مزید تیز کریں گے۔ بھارت روس کے لیے ایک اہم شراکت دار ہے اور ہر سطح پر تعاون ناگزیر ہے۔"

ایس سی او اجلاس میں یہ واضح پیغام دیا گیا کہ دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام رکن ممالک متحد ہیں۔ اجلاس کے دوران رکن ممالک نے دوہرے معیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک یا گروہ کی طرف سے دہشت گردی کو ذاتی یا سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

افغانستان میں آنے والے زلزلے کے بعد طالبان حکومت نے بچاؤ کے کاموں کو تیز کر دیا ہے۔ زخمیوں کو اسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔ زلزلے کے بعد کئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں۔

یہ ملاقات ایس سی او پلیری سیشن سے بالکل پہلے ہوئی، جہاں دونوں نے دو طرفہ مذاکرات میں توانائی، دفاع اور تجارت پر گفتگو کی۔ ایس سی او سمٹ چین کے تیانجن میں ہو رہا ہے۔

چین کے شہر تیانجن میں دنیا کی 11 بڑی طاقتوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں پی ایم مودی، صدر شی جن پنگ اور صدر پوتن ایک دوسرے کے قریب کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

پی ایم نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت کی روح پر نہیں ہوا تھا، بلکہ ہر اُس ملک اور شخص کے لیے ایک چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔

آج پیر کے روز ایک بار پھر SCO کے رہنماؤں کا اجتماع ہوگا۔ دو دنوں پر محیط اس اجلاس کا آج آخری دن بھی ہے۔ پی ایم مودی بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، جس کے بعد وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

ورلڈ پیس سینٹر کے بانی جین آچاریہ لوکیش مُنی نے اس معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا:"اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ورلڈ پیس سینٹر کے درمیان ہونے والا یہ معاہدہ تعلیم میں انقلابی تبدیلی لائے گا اور دنیا بھر میں امن اور خیر سگالی کے پیغام کو عام کرے گا۔