جاپان کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں سے زمین لرز اٹھی، جس کے بعد مقامی سطح پر لوگوں میں تشویش پھیل گئی۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی کئی علاقوں میں لوگ خوفزدہ ہوگئے۔ عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں میں ہلکی لرزش محسوس کی گئی، جبکہ بعض مقامات پر لوگوں نے احتیاطاً گھروں اور عمارتوں سے باہر نکلنا شروع کردیا۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں زلزلے کے واقعات نسبتاً زیادہ پیش آتے ہیں، اس لیے وہاں شہریوں اور انتظامیہ کو ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے مسلسل تیار رکھا جاتا ہے۔
سمندر میں آیا زلزلہ
ابتدائی معلومات کے مطابق زلزلے کا مرکز شمالی بحرالکاہل کے علاقے میں سمندر کے اندر بتایا گیا ہے۔ زلزلے کی گہرائی اور مرکز سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار میں متعلقہ زلزلہ پیما اداروں کی جانب سے مزید تبدیلی ممکن ہے۔ سمندر میں آنے والے زلزلوں کے بعد سب سے بڑی تشویش سونامی کے خطرے سے متعلق ہوتی ہے۔ حکام عموماً زلزلے کی شدت، گہرائی اور مرکز کے مقام کا جائزہ لینے کے بعد سونامی سے متعلق انتباہ جاری کرتے ہیں۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں بڑے پیمانے پر سونامی کے خطرے سے متعلق کسی بڑے الرٹ کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
جاپان میں ہائی الرٹ
زلزلے کے بعد جاپانی حکام نے صورتحال پر نظر رکھنا شروع کردی۔ زلزلے کی شدت 6.1 ہونے کے باوجود نقصان کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ زلزلے کا مرکز کتنی گہرائی میں تھا اور زمین پر موجود آبادی سے اس کا فاصلہ کتنا تھا۔جاپان میں زلزلہ مزاحم عمارتوں کی تعمیر اور ہنگامی تیاریوں پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اسکولوں، دفاتر اور رہائشی عمارتوں میں لوگوں کو زلزلے کے دوران محفوظ رہنے کے طریقوں سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
زلزلوں کے لیے حساس خطہ
جاپان اور اس کے اطراف کا علاقہ بحرالکاہل کے ’رِنگ آف فائر‘ میں واقع ہے۔ یہ خطہ دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں مختلف ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت کے باعث زلزلے اور آتش فشانی سرگرمیاں عام ہیں۔ 6.1 شدت کے زلزلے کے بعد حکام ممکنہ آفٹر شاکس پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ زلزلے کے باعث ہونے والے ممکنہ جانی و مالی نقصان کا مکمل اندازہ تفصیلی جائزے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔ حکام کی جانب سے صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


