Urdu Conclave 2026

Names Of 5 Million Of 6 Million Jews Killed In Holocaust Now Identified : ہولوکاسٹ میں ہلاک ہونے والے 60 لاکھ یہودیوں میں سے 50 لاکھ کی ہوئی پہچان، باقی کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی سے امید

اسرائیل کے ورلڈ ہولوکاسٹ ریمیمبرنس سینٹر ’یاد واشیم‘ نے اعلان کیا ہے کہ نازیوں کے ہاتھوں مارے گئے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں میں سے 50 لاکھ کی شناخت کر لی گئی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کی مدد سے باقی متاثرین کی پہچان بھی ممکن ہو سکے گی۔

یروشلم: اسرائیل کے ورلڈ ہولوکاسٹ ریمیمبرنس سینٹر ’یاد واشیم‘ نے اعلان کیا ہے کہ نازیوں کے ہاتھوں مارے گئے تقریباً 60 لاکھ یہودیوں میں سے 50 لاکھ کی شناخت کر لی گئی ہے۔ ادارے نے اسے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کی مدد سے باقی متاثرین کی شناخت بھی ممکن ہو سکے گی۔

’یاد واشیم‘ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ہولوکاسٹ کے دوران اپنی جان گنوانے والے یہودیوں کے نام واپس دنیا کے سامنے لانا اس کے کئی دہائیوں پر محیط مشن کا حصہ ہے۔ ادارے نے کہا کہ ”یہ کامیابی صرف ایک عدد نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک عہد ہے کہ ہر کھوئی ہوئی جان کو یاد رکھا جائے“۔ ادارے کے مطابق، یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہولوکاسٹ کے زندہ بچ جانے والے گواہوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں کلیمز کانفرنس کی ایک رپورٹ کے مطابق، موجودہ دو لاکھ کے قریب زندہ متاثرین میں سے تقریباً نصف اگلے سات برسوں میں دنیا سے رخصت ہو سکتے ہیں۔

’یاد واشیم‘ نے مزید کہا کہ باقی 10 لاکھ متاثرین کے نام شاید کبھی مکمل طور پر معلوم نہ ہو سکیں، تاہم مصنوعی ذہانت اور جدید ڈیجیٹل تجزیاتی طریقوں سے مزید ڈھائی لاکھ افراد کی شناخت ممکن ہے۔ ادارے کے چیئرمین ڈینی ڈاین نے کہا کہ ”پچاس لاکھ ناموں تک پہنچنا ہمارے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے، مگر یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمارا مشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہر نام ایک مکمل زندگی کی علامت ہے — ایک بچہ جو کبھی بڑا نہیں ہوا، ایک ماں یا باپ جو گھر واپس نہ لوٹے، ایک آواز جو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔ ہمارا اخلاقی فرض ہے کہ ہم ہر متاثرہ شخص کو یاد رکھیں تاکہ کوئی بھی گمنامی کے اندھیرے میں نہ رہ جائے“۔

’یاد واشیم‘ کے مطابق، اس مہم کی کامیابی دنیا بھر میں موجود یہودی برادریوں، تاریخی آرکائیوز، خاندانی نسب نامہ اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے باہمی تعاون سے ممکن ہوئی۔ اس کوشش کا ایک اہم حصہ ’پیجز آف ٹیسٹی مونی‘ منصوبہ ہے، جس کے تحت بچ جانے والے افراد، لواحقین اور دوستوں نے اپنے پیاروں کے بارے میں یادگاری فارم پُر کیے۔ اب تک اس مہم کے ذریعے 28 لاکھ سے زائد نام جمع کیے جا چکے ہیں، جو 20 سے زیادہ زبانوں میں تحریر کیے گئے ہیں۔ یہ نادر مجموعہ 2013 میں یونیسکو کے ’میموری آف دی ورلڈ رجسٹر‘ میں شامل کیا گیا تھا، جو انسانی تاریخ کے اہم ترین دستاویزی ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read