Bharat Express DD Free Dish

Malaysian Prime Minister Anwar Ibrahim: ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے ایران کے وزیر خارجہ سے کی بات، حملے کو قابل مذمت قرار دیا

ملائیشیا کے وزیر اعظم  انور ابراہیم نے دونوں فریقین سے اس معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی۔ گفتگو میں زور دیا گیا کہ کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو مضبوط کرنے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اور پرامن حل تلاش کرنا ضروری ہے،

نئی دہلی :تہران — ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں پر ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے دوبارہ اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا اور ایران کے عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی دکھائی۔ انور ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا، میں نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے اس مشکل وقت میں بات کی تاکہ ایران کے عوام کے ساتھ ملائیشیا کی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ فون پر بات چیت کے دوران میں نے تہران میں حال ہی میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں میں مارے گئے افراد کے لیے اپنی گہری ہمدردی بھی ظاہر کی، جن میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور 165 اسکولی طلبہ بھی شامل ہیں۔”

انور ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا کسی بھی ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والی فوجی کارروائی کے خلاف ہمیشہ سخت موقف اختیار کرتا ہے اور اس طویل عرصے سے جاری تنازع کے عالمی امن، استحکام اور فلاح و بہبود پر پڑنے والے اثرات پر گہری تشویش رکھتا ہے۔

عالمی لیڈرامن کے لیے زور دیتے ہوئے ،سفارتی حل پر زور

ملائیشیا کے وزیر اعظم  انور ابراہیم نے دونوں فریقین سے اس معاملے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی۔ گفتگو میں زور دیا گیا کہ کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو مضبوط کرنے اور مشرق وسطیٰ میں جاری جھگڑوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اور پرامن حل تلاش کرنا ضروری ہے، جس میں فلسطینی مسئلہ بھی شامل ہے۔

اس سے قبل ایران کے صدر مسعود  پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی۔ روسی وزارت خارجہ نے بتایا کہ پوتن نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے خاندان اور ملک کی فوج اور قیادت کے افراد کی ہلاکت پر اپنی گہری ہمدردی ظاہر کی اور امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے ہونے والی عام شہری ہلاکتوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق پوتن نے زور دیا کہ ایران سے متعلق یا مشرق وسطیٰ کے کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے اور فوری طور پر سفارتی راستے اپنائے جائیں تاکہ کشیدگی ختم کی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read