لفتھانزا ایوی ایشن گروپ، جس میں لفتھانزا، سوئس، آسٹریئن ایئر لائنز، برسلز ایئر لائنز، اور یورو ونگز شامل ہیں، نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے اور اسرائیل کے لیے اپنی تمام پروازیں اگلے آٹھ ماہ تک معطل کر رہا ہے۔ یہ فیصلہ خطے میں جاری تناؤ اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کیا گیا ہے، خاص طور پر بن گوریون ایئر پورٹ کے قریب حال ہی میں ہونے والے میزائل حملے کے بعد، جس نے فضائی سفر کے تحفظ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ لفتھانزا گروپ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور قومی و بین الاقوامی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ پروازوں کی بحالی کے لیے محفوظ وقت کا تعین کیا جا سکے۔ متاثرہ مسافروں کو مفت دوبارہ بکنگ یا مکمل رقم کی واپسی کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
اس معطلی کا اثر نہ صرف لفتھانزا بلکہ اس گروپ کی دیگر ایئر لائنز پر بھی پڑے گا، جو یورپ اور شمالی امریکہ سے اسرائیل کے لیے اہم رابطے فراہم کرتی ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، دیگر بڑی ایئر لائنز جیسے کہ ایئر کینیڈا، یونائیٹڈ ایئر لائنز، اور برٹش ایئر ویز نے بھی اپنی پروازوں کی معطلی کو توسیع دی ہے، جس سے اسرائیل کے لیے بین الاقوامی پروازوں کی دستیابی مزید محدود ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے مسافروں، خاص طور پر ہجرت کرنے والوں، طلباء، اور کاروباری افراد کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، کیونکہ پروازوں کی کمی کی وجہ سے ٹکٹوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور متبادل راستوں کی تلاش مشکل ہو گئی ہے۔ اسرائیلی ایئر لائنز جیسے کہ ایل ایل، اسرائیر، اور ارکیا اب زیادہ تر مسافروں کے لیے واحد آپشن ہیں، لیکن ان کی دستیابی بھی محدود ہے۔
یہ فیصلہ خطے میں جاری تنازعات، خاص طور پر غزہ اور لبنان میں جاری تناؤ کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس نے عالمی ایئر لائنز کے لیے اسرائیل کے فضائی راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ لفتھانزا گروپ نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2025 سے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن تازہ ترین سیکیورٹی جائزوں کے بعد اس معطلی کو جنوری 2026 تک بڑھا دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں استحکام بحال نہ ہوا تو یہ معطلی مزید طویل ہو سکتی ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ایئر لائن سے تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے رابطے میں رہیں اور ٹریول انشورنس کی توسیع کو یقینی بنائیں تاکہ غیر متوقع منسوخیوں سے بچا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

