Bharat Express DD Free Dish

Middle East Nuclear Tension: بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا کیا اظہار، ایران کا جوہری تنصیب پر حملے کا الزام

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی کارروائی ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور اسرائیل کی ’’آپریشن رورنگ لائن‘‘ کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

 

ویانا: ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے دوران اس کی اہم جوہری تنصیب نطنز کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ دعویٰ ایران کے نمائندے نے ویانا میں اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے اجلاس کے دوران کیا۔ ایران کے سفیر رضا نجفی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’’انہوں نے ایک بار پھر ایران کی پُرامن اور محفوظ جوہری تنصیبات پر حملہ کیا ہے۔‘‘ جب ان سے متاثرہ مقام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح طور پر کہا: ’’نطنز۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ کی کارروائی ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ اور اسرائیل کی ’’آپریشن رورنگ لائن‘‘ کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

آئی اے ای اے کا شدید اظہار تشویش

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل رفائیل ماریانو گروسی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو تابکاری کے اخراج (ریڈیولوجیکل ریلیز) کا خطرہ مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، حتیٰ کہ بڑے شہروں جیسے علاقوں کو خالی کرانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ گروسی نے کہا کہ آئی اے ای اے کو خطے میں جوہری اور تابکار مواد کی نوعیت اور مقام کا مکمل علم ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے واضح رہنما اصول موجود ہیں۔

تابکاری میں اضافہ نہیں، مگر الرٹ جاری

گروسی نے واضح کیا کہ فی الحال ایران کے ہمسایہ ممالک میں تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم خطے کے سیفٹی مانیٹرنگ نیٹ ورک کو الرٹ پر رکھا گیا ہے اور رکن ممالک کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک ایسی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملی کہ ایران کی کسی جوہری تنصیب، بشمول بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ یا تہران ریسرچ ری ایکٹر کو نقصان پہنچا ہو۔

خطے میں جوہری تنصیبات کا پھیلاؤ اور بڑھتا خطرہ

گروسی نے نشاندہی کی کہ ایران سمیت خطے کے کئی ممالک میں جوہری پاور پلانٹس اور ریسرچ ری ایکٹرز فعال ہیں، جس سے مجموعی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے چار جوہری ری ایکٹرز، اردن اور شام کے تحقیقی ری ایکٹرز سمیت خلیجی ممالک میں مختلف نوعیت کی جوہری سرگرمیاں جاری ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جوہری سلامتی کو ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سفارتی کوششیں جاری

گروسی نے بتایا کہ سفارتی سطح پر بھی رابطے جاری ہیں اور انہیں جنیوا میں مشاورت کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’’سفارت کاری مشکل ضرور ہوتی ہے، مگر ناممکن نہیں۔ جوہری سفارت کاری اور بھی پیچیدہ ہے، لیکن یہ بھی ناممکن نہیں۔‘‘ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں نطنز تنصیب پر مبینہ حملے کا الزام عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، کیونکہ کسی بھی جوہری حادثے کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read